لندن( رپورٹنگ آن لائن)جنگ زدہ یوکرین کے دورے پر آئے برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے 3،2 ارب ڈالر کی نئی فوجی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ برطانیہ کی جانب سے جنگ سے دوچار یوکرین کے لیے حمایت کا مضبوط اشارہ ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ کی طرف سے یہ امدادی پیکج آنے والے سال میں بروئے کار ہو گا جو 2022 اور 2023 کے برسوں کے مقابلے میں 200 ملین پائونڈ زیادہ ہے۔رشی سونک کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق سونک نے کہا کہ اس امداد کے ذریعے یہ یقینی ہو جائے گا کہ اب تک کی ڈرونز کے سلسلے میں سب سے بڑی امداد دی گئی ہے۔یہ یوکرین کے عوام کے لیے ایک مضبوط حمایت کا اشارہ ثبات ہو گا۔
اس کے ساتھ ہی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ روسی صدر ولادی میر پیتن کو یہ باور رہنا چاہیے کہ ہم کہیں گئے، میں یہاں ہوں پورے اور واضح پیغام کے ساتھ ہوں کہ برطانیہ یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے۔برطانوی وزیر اعظم نے یوکرین کے ساتھ کھڑا ہونے کی یہ اصطلاح جارح روس کے خلاف بالکل اسی طرح استعمال کی ہے جس طرح امریکہ اور مغربی ممالک غزہ جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کا واضح اعلان کر ررکھا ہے۔
سونک نے یوکرین میں ہنگامی حالات میں کام کرنے والے یوکرینی کارکنوں سے ملاقات میں اور ان کے حوصلے کی تعریف کی۔ یہ کارکن روسی حملوں کے بعد مدد کے لیے پہنچتے ہیں۔یوکرینی صدر زیلنسکی کے صدر کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ نے یوکرین کے لیے ایک تاریخی سیکیورٹی پیکج دیا ہے۔
یہ سو سالہ ناقابل شکست شراکت کے لیے ٹوٹیمک معاہدہ پہلا قدم ہونا چاہیے۔زیرخارجہ ڈیوڈ کیمرو ن نے صدر زیلنسکی سے ایک ملاقات میں کہا کہ ہم آپ کی اخلاقی، سفارتی، معاشی امداد جاری رکھیں گے اور سب سے بڑھ کر فوجی امداد کرتے رہیں گے۔ یہ اس سال بھی جارہے گی، اگلے سال بھی جاری رہے اور جب تک اس کی ضرورت رہے گی امداد ہوتی رہے گی۔









