اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ نوجوانوں پر سرمایہ کاری، عوام کیلئے سہولیات اور ایک مضبوط پاکستان پارٹی قیادت کا وژن ہے، قوموں کی تقدیر کا فیصلہ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے، خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، ہمارے بچوں کی تعلیم، ہمارے نوجوانوں کا مستقبل اور ہماری معیشت سب امن سے جڑے ہوئے ہیں۔
وہ منگل کو پشاور یونیورسٹی میں وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کے تحت طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ آج مجھے بے حد خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ میں پشاور یونیورسٹی کے ہونہار طلباء و طالبات کے درمیان موجود ہوں جہاں وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے نوجوانوں کیلئے شروع کردہ تاریخی پی ایم یوتھ پروگرام کے تحت 2400 طلبہ کو لیپ ٹاپس فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی مختلف جامعات میں 14 ہزار طلبہ کو لیپ ٹاپ دیئے جا رہے ہیں، لیپ ٹاپ سکیم مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے شروع کی تھی تاہم بدقسمتی سے اس پروگرام کو 2108 میں بند کردیا گیا جس کو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک بار پھر شروع کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سب سے پہلے میں دل کی گہرائیوں سے ان تمام خوش نصیب طلبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یونیورسٹی آف پشاور کی علمی، تحقیقی اور تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں ، یہ ادارہ نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کیلئے علمی روشنی کا مینار رہا ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد نے ملک و قوم کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوںنے کہاکہ قوموں کی تقدیر کا فیصلہ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے، نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور ہمیں فخر ہے پاکستان کا مستقبل باصلاحیت، باہمت اور تعلیم یافتہ نوجوانوں سے روشن ہے۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت، بالخصوص وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نوجوانوں پر سرمایہ کاری کو قومی ترقی کی بنیاد سمجھتے ہیں، پی ایم یوتھ پروگرام اس وڑن کا عملی ثبوت ہے، لیپ ٹاپ سکیم ہو یا سکالرشپس، ہنر مند نوجوان پروگرام ہو یا کاروباری قرضے یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس موقع پر وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان کی کاوشوں کو دل کی گہرائیوں سے سراہتے جو نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان ہمارا وطن ہے اور یہ ملک ہم سب کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے، ہماری تاریخ قربانیوں، حوصلے اور استقامت سے بھری ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ حالات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہماری افواج نے جس بہادری، حکمت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے، قوم متحد ہو تو کوئی دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کہ خاص طور پر ایک بات پر زور دینا چاہتا ہوں اور وہ امن ہے، امن ہی ترقی کی بنیاد ہے، خیبر پختونخوا ہمارا وہ صوبہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، ہمارے بچوں کی تعلیم، ہمارے نوجوانوں کا مستقبل اور ہماری معیشت سب امن سے جڑے ہوئے ہیں۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ پاکستان میں امن بحال ہو لیکن ہماری قومی یکجہتی، باہمی اعتماد اور نوجوانوں کی مثبت توانائی ہر سازش کو ناکام بنا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کا مستقبل ہیں، ڈیجیٹل یوتھ حب جیسے پلیٹ فارمز آپ کو تعلیم، ٹیکنالوجی، ہنر اور قیادت کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، آپ نے علم، کردار اور اتحاد کے ذریعے اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے، جب نوجوان باشعور، متحد اور پرامن ہوں تو قومیں ترقی کرتی ہیں۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ آج خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات شدید مالی بحران کا شکار ہیں، جامعہ پشاور آ کر آپ سے خطاب کرنا میرے لیے باعثِ فخر ہے، یہ ادارہ صرف ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ صوبے کی علمی، فکری اور تہذیبی شناخت ہے، جامعہ پشاور ہمارا وقار ہے، ہمارا ماضی ہے اور ہمارا مستقبل بھی ہے، مجھے اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ حالیہ دنوں میں جامعہ پشاور کو کئی سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے، حال ہی میں کم داخلوں کی وجہ سے بی ایس پروگرامز کے نو شعبہ جات کی بندش کا فیصلہ کیا گیا ہے جو بلاشبہ طلبہ، اساتذہ اور والدین کے لیے تشویش کا باعث ہے، اس کے علاوہ مالی مشکلات، انتظامی مسائل، انفراسٹرکچر کی کمی اور تحقیقی سہولیات کی قلت جیسے چیلنجز بھی موجود ہیں۔
انہوںنے کہاکہ پشاور یونیورسٹی سمیت صوبے کی کئی جامعات میں اساتذہ، ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگی میں شدید تاخیر کا سامنا ہے، یہ نہایت تشویشناک صورتحال ہے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وفاقی حکومت ان مسائل سے چشم پوشی نہیں کر سکتی، ہم جامعہ پشاور کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، میں ذاتی طور پر اس بات کا عزم کرتا ہوں کہ صوبائی حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعہ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ان تمام مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اس مالی بحران کے حل کیلئے بھرپور اور سنجیدہ کوششیں کرے گی تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آج کا دور جدید علوم اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یونیورسٹی آف پشاور نے ڈیٹا سائنس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ہیلتھ سائنسز اور دیگر مارکیٹ ڈرِون پروگرامز کا آغاز کیا ہے، ایسے پروگرامز ہی ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے قابل بناتے اور قومی معیشت مضبوط کرتے ہیں، ان پروگرامز کو مزید مؤثر بنانے کیلئے جدید کمپیوٹر لیبز، اے آئی لیبز، ڈیجیٹائزیشن اور انفراسٹرکچر کی بحالی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ڈیجیٹل ترقی کو قومی ترجیح سمجھتی ہے، یونیورسٹی آف پشاور کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز بشمول پی سی ون کو متعلقہ فورمز پر مکمل تعاون کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا تاکہ یہ ادارہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر یونیورسٹی آف پشاور کے مالی، انتظامی اور تعلیمی مسائل کے حل کیلئے بھرپور کوششیں جاری رکھے گی، باہمی تعاون، شفاف منصوبہ بندی اور قومی جذبے کے تحت ہم ان چیلنجز پر قابو پا لیں گے۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ صوبائی حکومت سیاست سے نکل کر تعلیم پر توجہ دے، فوری طور پر فنڈز جاری کرے، بدقسمتی سے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اپنا قیمتی وقت سیاسی محاذ آرائی میں ضائع کر رہی ہے، 13 سال سے اقتدار میں رہنے کے باوجود اگر آج بھی عوام کو بنیادی سہولیات کے لیے آواز اٹھانا پڑے تو سوالات اٹھانا ہمارا جمہوری اور اخلاقی حق ہے، صوبے کے عوام کو اب محض نعروں نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نہ صرف معیشت کو استحکام کی طرف گامزن کیا ہے بلکہ ملک کو دوبارہ ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لیے سخت مگر درست فیصلے کیے ، الحمدللہ آج پاکستان کی معیشت بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے،سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میری پارٹی کی قیادت کا وڑن بالکل واضح ہے اور وہ نوجوانوں پر سرمایہ کاری، عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور ایک مضبوط پاکستان ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نوجوان مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا۔قبل ازیں وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کا یونیورسٹی پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی اور فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔ تقریب میں اراکین صوبائی اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دیگر عہدیداران نے بھی شرکت کی۔









