رپورٹ 27

ہنگامہ خیز دنیا میں چین کی مستحکم معیشت کے اسباب

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) حال ہی میں “وال اسٹریٹ جرنل” نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ “مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، تاہم چین کے وسیع تیل ذخائر اور برقی گاڑیوں کی جانب اس کی منتقلی اسے مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی میں تعطل کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دے رہی ہے۔”آکسفورڈ انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ماہر میخائل مادان بھی دوٹوک انداز میں کہتے ہیں: “چین کی حکمتِ عملی نے واقعی ایک بہت بڑا حفاظتی دائرہ فراہم کیا ہے۔ ”

چینی تجزیہ نگار ہو شی جن کا کہنا ہے ” ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چین طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ تباہ کن تیل جنگ کے لیے خاموشی سے تیاری کر رہا تھا، اور آج وہ تمام تیاریاں سپاہیوں کی طرح نازک گھڑی میں قوم کے سامنے حاضر ہو چکی ہیں۔ یہی تیاریاں ایران سے متعلق جنگی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی چین کی صلاحیت کو دنیا کی تمام بڑی معیشتوں میں سب سے زیادہ مضبوط اور مستحکم بناتی ہیں۔”

حقیقت یہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور عالمی معیشت شدید ہلچل کا شکار ہوئی۔ اس تناظر میں دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کرنے والے ملک کے طور پر چین کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ وہ ایک بڑے توانائی اور معاشی بحران میں پھنس جائے گا۔ تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ چین کا سرمایہ کاری نظام مستحکم رہا اور معیشت و معاشرہ معمول کے مطابق فعال ہیں۔ یہ مغربی توقعات سے کہیں بڑھ کر ہے، جو محض اتفاق نہیں بلکہ چین کی طویل مدتی توانائی حکمتِ عملی اور اس کے منفرد نظامی برتریوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی مضبوطی کا مظہر ہے، جو عالمی بحرانوں میں ایک نمایاں جواب ہے۔

طویل عرصے سے چین نے خود کو روایتی توانائی درآمدات کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ قومی سطح کی دور اندیش حکمتِ عملی کے تحت نئی توانائی کی صنعتوں کو بھرپور فروغ دیا ہے۔ عالمی سطح پر نمایاں برقی گاڑیوں کی صنعت، ملک بھر میں پھیلا ہائی اسپیڈ ریل کا جال، انتہائی بلند وولٹیج بجلی کی ترسیلی لائنیں، اور مکمل صنعتی چین پر مشتمل صاف توانائی کا نظام—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ چین نے توانائی کے خطرات کو کم کرتے ہوئے فوسل ایندھن پر انحصار کو نمایاں حد تک گھٹا دیا ہے۔

امریکہ میں 74 فیصد اور یورپ میں تقریباً 60 فیصد توانائی کا انحصار تیل و گیس پر ہے، جبکہ چین میں یہ شرح محض 27 فیصد ہے۔ اسی وجہ سے اگرچہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں، لیکن چین میں افراطِ زر پر اس کے اثرات نہایت محدود رہے۔ اس صورتحال نے چین کو وسیع پالیسی گنجائش فراہم کی، جس کے باعث اسے افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے معاشی ترقی قربان نہیں کرنا پڑی، جبکہ یورپ اور امریکہ افراطِ زر کے بحران اور غیر یقینی مالیاتی پالیسیوں میں الجھے ہوئے نظر آئے۔

یہ توانائی بحران ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نہ صرف چین کی صنعتی ترقی کی گہرائی کو جانچا بلکہ اس کے پیچھے موجود ان منفرد نظامی برتریوں کو بھی آشکار کیا جو معیشت کو مستحکم اور دیرپا ترقی کی راہ پر گامزن رکھتی ہیں۔ یہی خصوصیات چین کو بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی بنیادی طاقت فراہم کرتی ہیں۔

اول: مسلسل گہری ہوتی اصلاحات اور کھلے پن کی قوت
چین نے ہمیشہ اصلاحات اور کھلے پن کو ترقی کی بنیادی قوت قرار دی ہے، پیداواری تعلقات کو مسلسل ایڈجسٹ کرتا آیا ہے تاکہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ ہم آہنگی رہے، جس سے معاشی نمو کی توانائی برقرار رہی۔ اس کے برعکس مغربی ممالک میں نظامی اصلاحات پیچیدگیوں کا شکار ہیں، پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہے اور گہرے تضادات حل نہیں ہو پاتے۔

دوم: معاشی ترقی اور سماجی انصاف میں توازن
چین نے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف کو بھی اہمیت دی ہے۔ بڑے پیمانے پر غربت کے خاتمے جیسے اقدامات کے ذریعے عدم مساوات کو کم کیا گیا، جس سے طبقاتی کشمکش اور شدید تفاوت سے بچاؤ ممکن ہوا، جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کا ارتکاز سماجی تضادات کو بڑھاتا ہے۔

سوم: بڑے معاشی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی نظامی لچک
گزشتہ چالیس برسوں میں چین میں کوئی داخلی بڑے پیمانے کا معاشی بحران پیدا نہیں ہوا، جس کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے بروقت اور مؤثر معاشی گورننس ہے۔ اس کے برعکس مغربی ممالک اکثر بحرانوں کو مؤخر یا منتقل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ بار بار عدم استحکام کا شکار ہوتے ہیں۔

چہارم: پالیسیوں کا تسلسل اور حکمتِ عملی کی پائیداری
چین “منصوبہ بندی پر مکمل عمل درآمد ” پر قائم ہے ۔ قیادت کی تبدیلی کے باوجود پالیسی اور سمت تبدیل نہیں ہوتی، اور طویل المدتی منصوبہ بندی تسلسل کے ساتھ جاری رہتی ہے۔

پنجم: وسیع معیشت کا اسٹریٹجک لچکدار دائرہ
ایک بڑی معیشت کے طور پر چین کے پاس وسیع داخلی گنجائش موجود ہے، جس کے تحت ایک شعبے کی کمزوری کو دوسرے شعبے کی مضبوطی سے پورا کیا جا سکتا ہے، جس سے خطرات سے بچنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے ، اور چین اندرونی ڈھانچے میں ایڈجسٹمنٹ سے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

یہی وہ برتریاں ہیں جو چین کو توانائی بحران جیسے بیرونی دباؤ کے مقابلے میں دیگر ممالک سے کہیں زیادہ مستحکم اور مضبوط بناتی ہیں۔ چین کی یہ مستحکم کارکردگی دنیا پر واضح کرتی ہے کہ حقیقی معاشی سلامتی مضبوط صنعتی بنیاد، دور اندیش حکمتِ عملی اور منفرد نظامی تحفظ سے حاصل ہوتی ہے۔

توانائی کی منتقلی کی پیشگی منصوبہ بندی سے لے کر ان پانچ بڑی نظامی برتریوں کے تسلسل تک، چین نے عالمی معاشی انتشار کے درمیان ایک منفرد اور مستحکم راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ نہ صرف قلیل مدتی بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت ہے بلکہ طویل المدتی ترقی سے حاصل ہونے والا اعتماد بھی ہے۔ مستقبل میں جب عالمی حالات مزید پیچیدہ ہوں گے، یہی مضبوطی اور برتری چین کو طوفانوں میں ثابت قدم رکھیں گی اور عالمی معاشی استحکام کے لیے اہم ستون بنیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں