اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ ہندوستان نے افغان اور پاکستانی بھائیوں کے درمیان بیج بونے کی ناکام کوشش کی، افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں امن ہو گا۔
جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللہ کے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت پوری قوم نے قربانیاں دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بعد پورے ملک میں امن آیا، خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے افغان اور پاکستانی بھائیوں کے درمیان بیج بونے کی ناکام کوشش کی، افغان ہمارے بھائی ہیں، ہم امن کے شراکت دار ہیں جنگ کا حصہ نہیں، پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی بونوں کو تاریخی حقیقت کا علم نہیں، افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں امن ہو گا، عمران خان نے ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دی، عمران خان نے کہا کہ امریکہ کو کوئی اڈہ نہیں دیاجاے گا، افغانستان میں بدلتی صورتحال کے اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے، پاکستان کی فوجی قیادت نے سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا، ماضی میں افغان تنازعات کی قیمت چکائی، ہم پر امن افغانستان کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ افغان مذاکرات میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، پاکستان کی سرزمین کسی صورت افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 79 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا، چار ہزار کے قریب اکا?نٹس منجمد کئے گئے، خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی بہترین ہے، پولیس کو سیاست سے پاک کیا گیا، پاکستان میں کسی کو دہشت گردی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔








