اسلا م آباد(رپورٹنگ آن لائن )تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہمارا ملک ہماری وجہ سے ناکامیوں کی طرف جارہا ہے، ہم کسی کو فتح کرنے یا پتھر مارنے نہیں نکلے بلکہ ہمارا مقصد آئین کی حفاظت کرنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، 28 فروری کو ملک گیر احتجاج ، 8 فروری کو شٹر ڈاﺅ ن ہڑتال ہوگی، جس میں بسیں، ٹرک اور دیگر ٹرانسپورٹ بند رہیں گی، اور عوام پاکستان کی سڑکوں پر اپنی طاقت دکھائیں گے ۔تفصیل کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعرات کو اپنی اسٹریٹ موبلائزیشن مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔
مہم کی قیادت پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں، اور قافلہ اسلام آباد سے لاہور کےلئے روانہ ہو گیا یہ تین روزہ دورہ عوامی رابطہ مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد آئینی اقدار کے تحفظ اور عوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔محمود خان اچکزئی نے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم کسی کو فتح کرنے ،گالیاں دینے یا پتھر مارنے نہیں نکلے بلکہ ہمارا مقصد آئین کی حفاظت کرنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔آ ﺅ ہمارے ساتھ چلو۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں 28 فروری کو ملک گیر احتجاج اور سرگرمیوں کی کال دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 8 فروری کو شٹر ڈاﺅ ن ہڑتال ہوگی، جس میں بسیں، ٹرک اور دیگر ٹرانسپورٹ بند رہیں گی، اور عوام پاکستان کی سڑکوں پر اپنی طاقت دکھائیں گے۔ ہم نے تحریک شروع کی ہے، ہم اس سلسلے میں لاہور جا رہے ہیں، کئی ایم پی ایز ہمارے ساتھ جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایوں سے تعلقات بگڑ رہے ہیں، حکومت خود جانتی ہے وہ ہار چکی ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم پنجاب میں تین دن رہیں گے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے، ہم پرامن اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔قافلے میں بڑی تعداد میں گاڑیاں شامل ہیں ۔ قافلے میں اپوزیشن اتحاد کے دیگر رہنما، بشمول معین قریشی، سینیئر نائب صدر علامہ راجہ ناصر عباس، نائب صدر مصطفی نواز کھوکھر، سیکرٹری جنرل اسد قیصر اور دیگر اہم رہنما شامل ہیں۔لاہور پہنچنے پر قافلہ سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کرے گا، جبکہ کئی اہم سیاسی رہنما تحریک میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی پنجاب اسمبلی کا دورہ بھی کریں گے اور کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید سے ملاقات کی کوشش کریں گے۔
تحریک کے ترجمان نے کہا کہ یہ مہم آئین کی بحالی اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے ہے اور عوام کو ظلم کے خلاف متحد کرنے کا آغاز ہے۔ قافلے کی روانگی کے بعد لاہور میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور رہنماں اور کارکنان کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم کی مذمت کی تھی اور ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ تحریک کے قائدین کا کہنا ہے کہ یہ عوامی رابطہ مہم آئین کی حفاظت اور شفاف انتخابات کے مطالبے کو مزید تقویت دے گی، اور لاہور میں عوامی اجتماعات، پریس کانفرنسز اور جیل میں قید رہنماں سے ملاقاتوں کا پلان بھی موجود ہے۔









