آصف علی زرداری 42

ہم امن کے خواہاں ہیں ،اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ، پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ،صدر مملکت

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم امن کے خواہاں ہیں ،اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ، پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ، کسی بھی وجودی خطرے کا بھرپور قومی عزم اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی طاقت سے جواب دیا جائیگا،

پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور بشمول کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو بین الاقوامی وعدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کیلئے تیار ہے،افغان حکام دوحہ معاہدے کی پاسداری کریں اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،پاکستان پراکسی جنگوں ، انتہائی پسندی ، زینو فوبیا اور عوامی جذبات پر مبنی فسطائیت جیسے چیلنجز سے محفوظ نہیں ،ہم بے بس بھی نہیں ہیں،اتحاد، استقامت، تخلیقی صلاحیت اور یقین کے ساتھ مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں،تعلیم، صحت، نوجوانوں، تخلیقی شعبوں، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ہماری بقا اور ترقی کیلئے ناگزیر ہے،

سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور شدید گرمی معمول بن چکے ہیں، ماحولیاتی مطابقت کو نقصانات کے ازالے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہوگا،ہمیں ہر قسم کی انتہاپسندی کو مسترد کرنا ہوگا اور تشدد کی ہر صورت سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی۔بدھ کو سال نو 2026 کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہاکہ جیسے ہم سال 2026 اور رواں صدی کی دوسری چوتھائی میں داخل ہورہے ہیں، میں پاکستان کے عوام، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا پیغام دیتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ جب ہم اپنے 79 ویں یومِ آزادی کے قریب پہنچ رہے ہیں تو یہ لمحہ قومی خود احتسابی اور اجتماعی عزم کا ہونا چاہیے۔

انہوںنے کہاکہ انفرادی نئے سال کے عہد سے آگے بڑھتے ہوئے ہمیں اجتماعی طور پر پاکستان کے مشترکہ مستقبل کے نگہبان ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کی تجدید کرنا ہوگی۔انہوںنے کہاکہ ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جو جنگوں اور تنازعات، پراکسی جنگوں، انتہاپسندی، زینوفوبیا، عوامی جذبات پر مبنی فسطائیت، آبادی میں بے قابو اضافے، معاشی بے یقینی، ماحولیاتی ہنگامی صورتحال، خوراک اور پانی کے عدم تحفظ، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور شدید سماجی تقسیم سے عبارت ہے۔ پاکستان ان چیلنجز سے محفوظ نہیں لیکن ہم بے بس بھی نہیں ہیں۔ اتحاد، استقامت، تخلیقی صلاحیت اور یقین کے ساتھ ہم ان مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ آجکل عالمی منظرنامہ افراطِ زر، سپلائی چین میں رکاوٹوں، قرضوں کے دباؤ، تجارتی جنگوں اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر مسابقت سے تشکیل پا رہا ہے، یہ صورتحال معاشی خودمختاری سے انکار کی بجائے نظم و ضبط، عوامی نعروں کے بجائے پیداواریت کو مہمیز دینے، بہانوں کی بجائے برآمدات اور اقربا پروری کے بجائے جامع ترقی کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ تعلیم، صحت، نوجوانوں، تخلیقی شعبوں، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ہماری بقا اور ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔

انہوںنے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور دراز خطرہ نہیں رہی بلکہ ایک قومی سلامتی کا چیلنج بن چکی ہے،سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور شدید گرمی معمول بن چکے ہیں۔ ماحولیاتی مطابقت کو نقصانات کے ازالے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ منافع خوروں کی ایما پر پراپیگنڈہ اور دانستہ سماجی تقسیم کے اس دور میں ہماری سب سے بڑی طاقت تنقیدی سوچ، ابلاغی فہم، جمہوری برداشت اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں ہے،ہمیں ہر قسم کی انتہاپسندی کو مسترد کرنا ہوگا اور تشدد کی ہر صورت سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی، خواہ وہ مذہبی، نسلی، سیاسی، نظریاتی، مسلح، فرقہ وارانہ یا ڈیجیٹل ہو۔

انہوںنے کہاکہ میں اپنی داخلی سیاسی صورتحال پر بھی کھل کر بات کرنا چاہتا ہوں، جمہوریت اختلافِ رائے میں پنپتی ہے مگر شائستگی اور ذمہ داری کے ساتھ،سیاسی اظہار کو ریاستی اداروں کو مضبوط بناناے میں معاون ہونا چاہیے، کمزور کرنا نہیں،میں تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عوام کی بہتری کیلئے پارلیمان میں تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوںنے کہاکہ کوئی بھی سیاسی مقصد دشمن قوتوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہیے جو پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانا یا دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کے درپے ہیں،یہ وقت ماحول میں شدت اور حرارت پیدا کرنے کا نہیں بلکہ روشنی پیدا کرنے کا ہے۔

انہوںنے کہاکہ وفاق کی وحدت کی علامت کے طور پر، میں قومی مفاہمت اور مصالحت کے عمل کی قیادت کے لیے تیار ہوں تاکہ فاصلے کم کئے جائیں، اعتماد بحال ہو اور تمام جمہوری قوتوں کو آئینی راستے پر واپس لایا جائے۔ پاکستان کو محاذ آرائی نہیں، تعاون کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ اس سال کے اوائل میں پاکستان کو ایک سنگین سلامتی کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام کے اتحاد اور ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت نے ہماری خودمختاری کا دفاع یقینی بنایا، پاکستان کا دفاع مضبوط اور انتہائی قابلِ بھروسہ ہے۔ اگرچہ ہم امن کے خواہاں ہیں لیکن اسے نہ ہماری کمزوری سمجھا جائے اور نہ اس میں کوئی ابہام ہونا چاہیے۔

پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے اور کسی بھی وجودی خطرے کا بھرپور قومی عزم اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی طاقت سے جواب دیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ میں اس امر پر بھی زور دینا چاہتا ہوں کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہ صرف ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدے بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے،پاکستان اس مسئلہ کو تمام ممکنہ ذرائع سے اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ صدرمملکت نے کہاکہ پاکستان عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن، امن کے داعی اور استحکام کے ضامن کے طور پر دوطرفہ اور کثیرالجہتی روابط کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور بشمول کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو بین الاقوامی وعدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کیلئے تیار ہے ہم افغانستان کے ڈی فیکٹو حکام سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کریں اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوںنے کہاکہ اس صدی کی دوسری چوتھائی کے آغاز پر ہم یوکرین۔روس جنگ سمیت تمام عالمی تنازعات کے خاتمے کی امید رکھتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور ان کے اس حق کی بھرپور تائید کرتے ہیں کہ وہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست قائم کریں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔انہوںنے کہاکہ دعا ہے کہ یہ نیا سال غصے کی بجائے تحمل، تقسیم کی بجائے اتحاد اور مایوسی کی بجائے امید کی تجدید کا سال ہو۔آخر صدر مملکت نے پاکستان زندہ باد کہا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں