واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن)سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے زور دے کر کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی چِپس کے حصول سے متعلق کوئی بھی معاہدہ مملکت کی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہو گا، نہ کہ امریکہ یا صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے۔ ایک انٹرویومیں ولی عہد نے کہا ہم امریکہ کو خوش کرنے کے لیے مصنوعی مواقع پیدا نہیں کرتے۔ براہِ کرم مسٹر ٹرمپ یہ حقیقی مواقع ہیں۔
مثال کے طور پر جب آپ مصنوعی ذہانت اور چِپس کے بارے میں پوچھتے ہیں تو سعودی عرب کے پاس ایک بہت بڑی طلب ہے اور کمپیوٹنگ پاور کی شدید ضرورت ہے۔ ہم مختصر مدت میں تقریبا 50 ارب ڈالر خرچ کریں گے تاکہ ان سیمی کنڈکٹرز کی کھپت کے ذریعے سعودی عرب کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا امریکہ کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ہمیں اپنی اس صلاحیت کو منظم کرنے کے قابل بنائے گا … مختصر مدت میں امریکہ سے 5 کروڑ ڈالر کے ساتھ اور طویل مدت میں سیکڑوں ارب ڈالر کے ذریعے۔
اس طرح کئی حقیقی مواقع پید ا ہوں گے جو ہماری قومی ضرورتوں اور ہماری سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے مطابق ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ سرمایہ کاری کو 600 ارب سے بڑھا کر دس کھرب ڈالر تک کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔اپنے وائٹ ہائوس دورے کے دوران سعودی ولی عہد نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تعاون مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حقیقی مواقع پیدا کر رہا ہے اور نئے معاہدوں میں تکنیکی تعاون، خام مواد اور جدید دھاتیں بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ آج اور کل ہم سرمایہ کاری کو 600 ارب ڈالر سے بڑھا کر دس کھرب ڈالر تک لے جائیں گے .
یہ حقیقی سرمایہ کاری اور حقیقی مواقع ہوں گے، ان کی تفصیلات مختلف شعبوں میں ہوں گی۔ اس کے علاوہ ہم آج ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، دھاتوں اور دیگر شعبوں میں بھی کئی معاہدے دستخط کریں گے۔ یہ نئی سرمایہ کاریوں کو جنم دے گا۔صدر ٹرمپ نے شہزادہ محمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں اپنا دوست اور غیر معمولی وژن رکھنے والا شخص قرار دیا۔امریکی صدر نے سعودی عرب کو نیٹو سے باہر امریکہ کا اہم اتحادی قرار دیا اور سعودیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین مذاکرات کار ہیں۔









