حلیم عادل شیخ 11

ہمارے 400 سے زائد کارکنوں کو یکم سے 9 جنوری تک غیر قانونی طور پر اغوا رکھا گیا، حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی تھری ایم پی او کے تحت غیر قانونی نظر بندی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے سندھ حکومت کو واضح ہدایت جاری کی کہ ایم پی او کے تحت جاری کردہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو ذمہ دار افسران کے خلاف حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔ جس کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے تمام ایم پی او آرڈرز معطل کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ یکم جنوری سے 9 جنوری تک ہمارے 400 سے زائد کارکنوں کو اغوا رکھا گیا، سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ پولیس نے پہلے کارکنوں کو اغوا کیا، پھر گرفتار کر کے ایم پی او کے تحت جیلوں میں بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات سندھ کابینہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں، بلاول زرداری بتائیں کیا سندھ میں یہی ان کی جمہوریت ہے اور کیا یہی محترمہ بینظیر بھٹو کی تعلیمات تھیں۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہمارے ایک کارکن فاضل خان کی والدہ اس صدمے سے انتقال کر گئیں جن کے بیٹے کو اغوا کیا گیا، جس پر ہم ان کے قتل کی ایف آئی آر بھی درج کروائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی گھروں میں پولیس نے داخل ہو کر لوٹ مار کی، ہم ان تمام پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے جنہوں نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا۔انہوں نے کہا کہ ایم پی اے واجد حسین، راجا اظہر اور فہیم خان پر تشدد کیا گیا، کورنگی میں تعینات بدنام زمانہ افسران نے وکلا کو بھی غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگل کا قانون نہیں، ہم جیلوں سے نہیں ڈرتے اور سندھ حکومت کے تمام ذمہ داران کو اپنے اقدامات کا جواب دینا پڑے گا۔ ہوم سیکریٹری، سیکشن افسران اور تمام ملوث پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت پرامن ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا، ہم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں میں رہیں، عوام نے ہمارا ساتھ دیا اور یہ پہلی ہڑتال تھی جو مکمل طور پر کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گرفتار کارکن ہمارے ہیروز ہیں، پوری قوم کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے کیونکہ اس وطن عزیز کو مضبوط کرنے کے لیے عمران خان کا آنا ناگزیر ہے۔سماعت کے دوران انصاف لائرز فورم سندھ کے جنرل سیکریٹری بیریسٹر علی طاہر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ غیر قانونی نظر بندی کے احکامات کے باعث 187 سے زائد خاندان شدید اذیت اور ذہنی دبا کا شکار ہیں۔

انہوں نے مقف اختیار کیا کہ کارکنوں کو نقصِ امن کے بے بنیاد الزام کے تحت نظر بند کیا گیا ہے جبکہ ایم پی او کا نوٹیفکیشن سندھ ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلوں اور طے شدہ قانونی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے کارکنوں کے گھروں پر غیر قانونی چھاپے مارے جا رہے ہیں، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا اور بلاجواز گرفتاریوں کے ذریعے شہری آزادیوں کو سلب کیا گیا۔بیریسٹر علی طاہر نے کہا کہ ایم پی او غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہیں، پریونٹو ڈیٹینشن کا اختیار صرف صوبائی کابینہ کو حاصل ہے جبکہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم کو ایم پی او جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں