لاہور( رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمارا نظام انصاف ایک تعفن زدہ لاش بن چکا ہے،ملک آئین و قانون کی بالادستی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا،مرضی کی ترامیم سے آئین کا حلیہ بیگاڑ دیا گیا ہے، عدلیہ ہی نہیں انصاف کے پورے نظام کو تباہ کردیا گیا، امیرانصاف خرید لیتا ہے اور غریب انصاف کے لئے ساری زندگی عدالتوں کے دھکے کھاتا ہے۔
منصورہ میں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن،لاہور بار،پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وکلا ء برادری آئین کی بحالی کے مشن کو لے کر اٹھیں، عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بحالی جماعت اسلامی کی بدل دو نظام تحریک کا بنیادی نقطہ ہے، ہمارا نظام انصاف ایک تعفن زدہ لاش بن چکا ہے،آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے اعلی عہدوں پر فائز ہوجاتے ہیں، اقتدار پر مافیاز نے قبضہ کرلیا ہے، احتساب کا کوئی نظام نہیں، ٹیکس غریب،کسان اور تنخواہ دار طبقہ دیتا ہے،سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے 25ہزار سے زائد ملازمین ہاتھ پر ہاتھ دھرے دفتروں میں بیٹھے رہتے ہیں، عوام کی تائید کے بغیر کوئی حکومت مشکل حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتی، موٹر سائیکل سوارمزدوروں اور طالب علموں سے روزانہ پٹرول لیوی کی مد میں کروڑوں روپے اکٹھے کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام ہماری بدل دو نظام تحریک میں جوق در جوق شامل ہورہے ہیں، وکلا ء آئین کے تحفظ اور قانون کی بالا دستی کے لئے جماعت اسلامی کی تحریک کا ساتھ دیں۔









