لاہور ہائی کورٹ 77

ہائیکورٹ کا لاہور پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار

لاہور (رپورٹنگ آن لائن ) لاہور ہائیکورٹ نے لاہور پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا ، جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دئیے کہ لاہور پولیس والے نہ بروقت تعمیل کرواتے ہیں، نہ ہی ریکارڈ پیش کرتے ہیں، قصور سینئرز کا ہوتا ہے ملبہ جونیئرز پر ڈال دیا جاتا ہے،غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے، انسان ہیں غلطی تسلیم نہ کرنا تکلیف دہ ہے۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے اقدام قتل کے ملزم شبیر حسین کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران دیگر پولیس افسران کے ہمراہ پیش ہوئے۔جسٹس محمد طارق ندیم نے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مدعی کی تعمیل کروانے کا حکم دیا ، اس پر عمل درآمد ہوا ، نہ ایس ایچ او نے آنا گوارا کیا .

ڈی آئی جی آپریشنز نے جواب دیا کہ سی سی پی او کے حکم پر ایس ایچ او ٹائون شپ کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس کے ساتھ ساتھ باقی افسران سے بھی جواب طلبی کی ہے، جو ایکشن ہوگا اس بارے عدالت کو آگاہ کردیں گے۔ جسٹس محمد طارق ندیم نے ڈی آئی جی آپریشنز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کی تعمیل نہ کروانے کا قصور ایس ایچ او ٹاون شپ کا تھا ملبہ اے ایس آئی پر ڈال دیا گیا ،پہلے آرڈر میں کہا کہ تعمیل نہ کروانے کی صورت میں ایس ایچ او پیش ہوگا .

دوسرا آرڈر پڑھیں ، اس عدالت کے حکم کی تعمیل ہوئی ، نہ ایس ایچ او نے پیش ہونا گوارا کیا ، انسانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں ، کسی سے ہوسکتی ہیں ، اپنی غلطی ماتحت ہرڈال دیں ، قصور کسی کا ہو ، ملبہ نیچے والوں پر ڈال دیا گیا ، ایس ایچ او کہتا ہے کہ میرا قصور نہیں .

نیچے والے اے ایس آئی کا ہے، اے ایس آئی بے چارہ کا کیا قصور ہے، یہ ظلم اتنا کیوں کررہے ہیں ، مناسب ہوگا کہ آپ اے ایس آئی کے خلاف دیا گیا شوکاز نوٹس واپس لے لیں ۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے جواب دیا ککہ جو کچھ ہوا اس پر معذرت خواہ ہوں ،سسٹم کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے،ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، اے ایس آئی کے خلاف دیا گیا شوکاز نوٹس واپس لے لیتے ہیں۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دئیے کہ لاہور کے تھانوں کی جانب سے بروقت تعمیل ہوتی ہے، نہ ان کا ریکارڈ ٹائم پر آتا ہے، کہتے ہیں کہ فون پر تعمیل کروالی ، اگر اسی طرح ہی کرنا ہے تو ٹیلی فون پر تعمیل کروانے کی ترمیمی کروالیں کہ آپ بڑے کمپٹمٹ ہیں ، سی سی پی او آفس کی جانب سے تعمیل کی رپورٹ آئی ہے جس پر نہ مہر ہے، نہ متعلقہ کے دستخط ۔ڈی آئی جی آپریشنز نے جواب دیا کہ سارے سسٹم کو ٹھیک کرتے ہیں .

میری طرف سے معذرت ،سسٹم کو بہتر کرتے ہیں ، تاکہ عدالت کا وقت ضائع نہ ہو ۔ ڈی آئی جی نے تھانہ ٹائون شپ کے سرفراز اے ایس آئی کو دیا شوکاز نوٹس عدالت میں ہی واپس لے لیا ۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ایچ ایس او ٹائون شپ کے خلاف 24گھنٹوں میں محکمانہ کاروائی کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد اقدام قتل کے ملزم شبیر کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں