لاہور ہائی کورٹ 11

ہائیکورٹ کا تین افراد کی بازیابی کیس میںسی سی پی او کو طلب کرنے کا عندیہ

لاہور(رپورٹنگ آن لائن ) لاہور ہائیکورٹ نے تین افراد کی بازیابی سے متعلق کیس میں سی سی پی او کو طلب کرنے کا عندیہ دیدیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے سائلہ کنزاں بی بی کی درخواست پر سماعت کی ۔ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ عدالت میں پیش ہوئیں۔

عدالت نے ایس پی انویسٹیگیشن کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار اورسی سی پی او کو طلب کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ کو 30 مارچ کو دوبارہ مفصل رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیدیا۔جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں آپ نے کیا کاروائی کی ؟ خاتون ایس پی انویسٹیگیشن نے جواب دیا میں نے معاملے کی انکوائری کی ہے،تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے ایس ایچ او باغبانپورہ کے خلاف کیا کاروائی کی ، جس نے ان کو گرفتار کیا تھا ،اس ایس ایچ او نے جو حرکت کی اس وجہ کی وجہ آپ کو یہاں پیش ہونا پڑا ۔

ایس پی انویسٹیگیشن نے جواب دیا ایس ایچ او باغبانپورہ کے خلاف کاروائی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے کہا کہ ایس ایچ او کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی ، آپ کاروائی کرکے رپورٹ پیش کریں گی یا سی سی پی او آکر بتائیں گے ، میرا خیال ہے آپ سے یہ نہیں ہوگا ، سی سی پی او کو ہی طلب کرنا پڑے گا ۔ ایس پی نے جواب دیا کہ سی سی پی او کو طلب نہ کریں ، مجھے دو روز کی مہلت دے دیں ۔ جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ شوکاز نوٹس وغیرہ سے کام چلے گا نہیں ، آپ کو پیر تک مہلت دے رہے ہیں ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 مارچ تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں