جوڈیشل الاؤنس 47

ہائیکورٹ نے 11سالہ مغوی بچے کی بیرون ملک سے عدم بازیابی کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے 11سالہ مغوی بچے کی بیرون ملک سے عدم بازیابی کے کیس میں فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔جسٹس سید سید شہباز علی رضوی نے کیس کی سماعت کی ۔ ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ راحیلہ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عمران عباس ساہی پیش ہوئے۔

درخواست گزار نے 7سالہ بیٹے سہون اقبال کی بازیابی کے لئے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ درخواست گزار کے وکیل شیخ ناصر رفیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عمران عباسی نے ایس پی کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔ جسٹس سید شہباز علی رضوی نے استفسار کیا کہ کیا پراسس ہے؟۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ریڈ وارنٹ کا پراسس چل رہا ہے۔ جج نے پوچھا کب تک یہ پراسس چلے گا؟۔ وکیل نے بتایاکہ 4مارچ 2026ء کو پراسس شروع کیا، وزارت داخلہ کی منظوری کا انتظار ہے۔ جسٹس سید سید شہباز علی رضوی نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ آپ اس پر کیا کہیں گے؟۔ وکیل نے کہا کہ یہ ایف آئی آر 2023ء میں درج ہوئی۔ پہلے بھی ریڈ وارنٹ جاری ہوئے، اس وقت بھی عدالت کو آگاہ کیا تھا۔

اس میں پہلے 17دسمبر 2025میں انٹرپول رولز بارے رپورٹ دی تھی۔ عدالت نے پوچھا کہ اب آپ کیا چاہتے ہیں۔ کیا آپ انٹرپول رولز کو چیلنج کررہے ہیں۔؟ وکیل نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ بچے کو بیرون ملک سے واپس لایا جائے۔ جسٹس سید شہباز علی رضوی نے کہا کہ انویسٹی گیشن میں ہم کیسے مداخلت کرسکتے ہیں؟۔ وکیل نے کہا کہ ان کا پاسپورٹ 6ستمبر 2023ء سے بلاک ہے۔ پاسپورٹ کی بلاکنگ ختم ہوگی تو بچہ ملک واپس آسکے گا۔ یہ ان کا نمبر دے دیں، بازیابی کے لئے مزید کوششیں کرسکتے ہیں۔ بچے کی نانی صغراں بی بی نے رشتہ دار کی ولدیت میں جعلی ب فارم بنایا۔ بچی کی نانی نے اپنے رشتہ دار کے ساتھ نواسے کو دبئی بھجوادیا۔ استدعا ہے کہ عدالت بچے کو دبئی سے بازیاب کروا کر پاکستان لانے کا حکم دے۔بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں