مکو آ نہ (رپورٹنگ آن لائن)کم آمدنی والے طبقے کے لیے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے، اور وہ حکومت سے فوری ریلیف کے لیے بے تاب ہیں، خاص طور پر یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کے بعد ان کے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔
اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کی بلند شرح نے بنیادی اشیاء کو غریب طبقے کے لیے ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ آئل اور گھی کی قیمت 590 روپے سے بڑھ کر 600 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پرائیویٹ کمپنی کا معیاری آٹا 160 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو رہا ہے۔ چائے کی پتی کا 800 گرام پیک بھی 1,760 سے بڑھ کر 1,900 روپے میں دستیاب ہے۔
چاول کی قیمتیں بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں، جس کے باعث صارفین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے کم آمدنی والے طبقے کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔









