انتونیو گوتریس 32

گوتریس کی اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کی دھمکی

نیویارک(رپورٹنگ آن لائن)اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا)کو نشانہ بنانے والے قوانین کو منسوخ نہ کیا اور قبضے میں لیے گئے اثاثے اور جائیدادیں واپس نہ کیں، تو اسے عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے نام 8 جنوری کے ایک خط میں گوتریس نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے ان اقدامات پر خاموش نہیں رہ سکتا جو بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی ذمے داریوں سے براہِ راست متصادم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کو بلا تاخیر واپس لیا جانا چاہیے۔اسرائیلی پارلیمنٹ نے اکتوبر 2024 میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت انروا ایجنسی کے اسرائیل میں کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی اور حکام کو اس کے ساتھ رابطے سے روک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد گذشتہ ماہ اس قانون میں ترمیم کی گئی تاکہ انروا کی تنصیبات کو بجلی اور پانی کی فراہمی بند کی جا سکے۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے نیتن یاہو کے نام گوتریس کے خط کو مسترد کر دیا۔ ڈینن کا کہنا تھا کہ ہم سکریٹری جنرل کی دھمکیوں سے پریشان نہیں ہیں۔ انروا کے عملے کے دہشت گردی میں ناقابلِ تردید طور پر ملوث ہونے کے معاملے کو حل کرنے کے بجائے، سکریٹری جنرل اسرائیل کو دھمکیاں دینے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ یہ بین الاقوامی قانون کا دفاع نہیں بلکہ دہشت گردی میں ملوث ایک تنظیم کا دفاع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں