سرچ آپریشن 65

گل پلازہ آتشزدگی المناک سانحہ محض غفلت نہیں بلکہ مجرمانہ لاپرواہی ہے ،ندیم افضل چن

مکو آ نہ (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے نئی نامزد ہو نے والی پی پی پی فیصل آباد کی ڈویژنل سیکرٹری اطلاعات امائمہ افتخار خاں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ میں ہونے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے ایک بڑا انسانی اور معاشی سانحہ قرار دیا ہے.

یہ الم ناک سانحہ محض غفلت نہیں بلکہ مجرمانہ لاپرواہی ہے پیپلز پارٹی پر الزام لگانے والے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو مجرم قرار دینے والے پہلے کراچی کی تاریخ پرھیں کراچی میں چائنہ کٹنگ کس نے کروائی اور کس کے دورمیں ہو ئی گل پلازہ کے اصل بینیفشری ایم کیو ایم ک سماج دشمن عناصر لوگ ہیں کیو نکہ گل پلازہ ایم کیو ایم کے دورمیں تعمیر ہوا جہاں باہر نکلنے اور اندر جانے کے راستے انتہائی تنگ اور دشوار گزار بنائے گئے.

اس سانحے کی ذ مہ داری مارکیٹ ایسوسی ایشن پر عائد ہوتی جو ہر دکان دار سے 5500 روپے وصول کرتی ہے لیکن فائر سیفٹی سسٹم لگانے میں ناجانے کیوں ناکام رہی بارہ سو دکانوں سے ہر ماہ66 لاکھ روپے جبکہ سالانہ آ ٹھ کڑور روپے سے زائد رقم اکھٹی کرتی ہے گل پلازہ کی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اپنی جیبیں بھری انسانی جانوں کو کھٹر ے میں ڈالا الزام دوسروں پر عائد کردیا بد قسمتی سے یہ بہت بڑا سانحہ ہے .

جس کا جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ بہت کم ہے گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، درجنوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات اور سینکڑوں کاروباروں کا تباہ ہونا ایک انتہائی دلخراش واقعہ ہے جس نے صرف پوری ملکی بزنس کمیونٹی کو نہیں پاکستان پیپلز پارٹی ہر پاکستانی کو سوگوار کر دیا ہے پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے نئی نامزد ہو نے والی پی پی پی فیصل آباد کی ڈویژنل سیکرٹری اطلاعات امائمہ افتخار خاں نے زور دیا کہ متاثرہ تاجروں، دکانداروں اور کاروباری افراد کو فوری، شفاف اور مکمل مالی معاوضہ دیا جائے تا کہ وہ دوبارہ اپنے کاروبار کھڑے کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ جیسے بڑے تجارتی مراکز میں فائر سیفٹی انتظامات کا مثر نہ ہونا ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سانحے کی غیر جانبدار فرانزک تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچا کے لیے تمام کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔۔ندیم افضل چن نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق درجنوں دکانیں مکمل طور پر جل چکی ہیں جبکہ سینکڑوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباو کا شکار ہیں فیصل آباد کی سوتر منڈی یارن مارکیٹ میں بھی ایسے ناگہانی واقعات رونما ہو چکے ہیں .

جسمیں جانی و مالی نقصان ہوئے فائر سیفٹی آلات اور سلنڈرکا نہ ہونا ملک بھر کی تما م بزنس کیمونٹی سمیت عوام اور حکومتوں کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اس کی بہتر ی کی طرف توجہ دی جانی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی اور صنعتی حب ہے اور اس نوعیت کے واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے لئے خطرہ ہیں بلکہ کاروباری اعتماد، سرمایہ کاری کے ماحول اور مارکیٹ کے تسلسل کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں