ٹرمپ 31

گلوبل گورننس انیشی ایٹو انسانیت کے مشترکہ مستقبل کو روشن کر سکتا ہے، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ” اخلاقی معیار اور اپنی مرضی”کا پرچم لہراتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ انہیں بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں، اور ایک بار پھر گرین لینڈ کی خودمختاری کی جانب نظریں جماتے ہیں، تو دنیا کے سامنے ایک ایسا منظر ابھرتا ہے جو سوال اٹھاتا ہے کہ کیا بالادستی کی سیاست کا بھوت جنگِ عظیم دوم کے بعد قائم عالمی نظام سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور دنیا کو دوبارہ اس دور کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے جہاں “جنگل کا قانون” رائج تھا ؟ ۔

درجنوں بین الاقوامی تنظیموں سے کھلے عام دستبرداری سے لے کر وینزویلا کی خودمختاری و داخلی امور میں جارحانہ فوجی مداخلت تک ، واقعات کا سلسلہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یکطرفہ طرزِ عمل اور بالادستی کی پالیسیاں اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں پر مبنی عالمی نظام کی بنیادوں کو غیر معمولی شدت سے ہلا رہی ہیں۔ اس نازک موڑ پر جب عالمی گورننس کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے،چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو اندھیروں میں ایک روشن چراغ کی مانند ہے، جو بین الاقوامی برادری کو انسانیت کے مشترکہ مستقبل پر غور کرنے کے لیے ایک نہایت اہم “چینی حل” فراہم کرتا ہے۔

روایتی گورننس ماڈل کو جب یکطرفہ بالادستی اور طاقت کی سیاست کے سنگین چیلنجز درپیش ہیں، چینی سربراہ کی طرف سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو مزید اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گلوبل گورننس انیشی ایٹو عہد حاضر سے ہم آہنگ، تعمیری اور جامع خصوصیات کے باعث عالمی نظام میں اعتماد کی بحالی اور اس کی اصلاح کے لیے ایک اہم فکری و عملی رہنما بن کر ابھرا ہے۔اس انیشی ایٹو کی جڑیں پرامن ترقی کی راہ پر چین کے غیر متزلزل عزم اور بین الاقوامی انصاف اور برابری کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے پختہ عزم سے جڑی ہوئی ہے، اور عالمی گورننس کی سطح پر “انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر” کے تصور کی ٹھوس نمائندگی کرتی ہے۔

گلوبل گورننس انیشی ایٹو مشکلات کی شکار دنیا کے لیے زیرو سم گیمز سے آگے بڑھنے اور باہمی فائدہ مند تعاون کی جانب قدم بڑھانے کا واضح راستہ اور عوامی پروڈکٹ پیش کرتا ہے ۔ سب سے پہلے، یہ عالمی نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، صحت عامہ کے بحران، دہشت گردی اور معاشی اتار چڑھاؤ جیسے بین الاقوامی مسائل کو اکیلا کوئی ایک ملک حل نہیں کر سکتا۔ انہیں قواعد پر مبنی اور موثر عالمی ہم آہنگی اور تعاون کی فوری ضرورت ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں سے امریکہ کا انخلاء بنیادی طور پر ایک بڑی طاقت کے طور پر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے پہلو تہی ہے، جس سے عالمی عوامی خدمات کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

اس کے برعکس، چین کا اقدام کثیرالجہتی نظام کی مضبوطی کی بات کرتا ہے تاکہ اس خلا کو پُر کیا جا سکے۔ دوسرا، یہ انیشی ایٹو بین الاقوامی برادری، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی جانب سے انصاف اور مساوات کے دیرینہ مطالبات سے ہم آہنگ ہے۔طویل عرصے سے جاری گورننس کا خسارہ، ترقیاتی خسارہ، اور اعتماد کا خسارہ، جزوی طور پر گورننس نظام کے غیر منصفانہ پن کی وجہ سے ہے۔ صدر شی جن پھنگ کا پیش کردہ یہ انیشی ایٹو بین الاقوامی تعلقات میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اس نے بین الاقوامی برادری خاص طور پر ترقی پزیر ممالک کی مشترکہ امنگوں کا جواب دیا ہے اور اسی لیے اسے وسیع پیمانے پر مثبت پذیرائی ملی ہے۔ آخر میں، یہ تہذیبوں کے تنوع اور ترقیاتی راستوں کی خود مختاری کے احترام کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ انیشی ایٹو دوسروں پر ایک ماڈل یا اقداری معیار مسلط کرنے کی مخالفت کرتا ہے اور مختلف تہذیبوں، نظاموں اور ترقیاتی راستوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی اور باہمی سیکھنے کی وکالت کرتا ہے ۔ یہی فلسفیانہ بنیاد اختلافات کے باوجود اتفاقِ رائے اور تعاون کے ذریعے اختلافات کو سنبھالنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

کیا دنیا دوبارہ “بالادستی کے دور” کی طرف لوٹ جائے گی؟ اس کا جواب بین الاقوامی برادری کے مشترکہ انتخاب اور کوششوں پر منحصر ہے۔ ٹرمپ کے ریمارکس اور اقدامات نے بلاشبہ خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جو موجودہ نظام میں عدم استحکام اور پسپائی کے خدشات کو بے نقاب کرتے ہیں۔

تاہم، بہت سے ممالک کی طرف سے امریکی تسلط پسندانہ رویے کی متفقہ مذمت، عالمی سروے میں دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے واضح موقف کا اظہار، اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے کثیرالجہتی کو برقرار رکھنے کا بڑھتا مطالبہ، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یکطرفہ جبر کو قبولیت حاصل نہیں۔ گلوبل گورننس انیشی ایٹو اسی تاریخی موڑ پر دنیا کے لیے ایک اور ممکنہ سمت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک ایسا مستقبل جو قواعد اور تعاون پر مبنی ہو، انصاف اور اشتراک کے لیے کوشاں ہو، اور تقدیر کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے کی جانب قدم بڑھائے۔

آگے کا راستہ چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے، مگر جیسے جیسے رات گہری ہوتی ہے، ستاروں کی روشنی اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔گلوبل گورننس انیشی ایٹو میں موجود حکمت اور وژن تمام ممالک ، بالخصوص بڑی طاقتوں کو اپنی ذمہ داریوں پر نظرِ ثانی، کثیرالجہتی مذاکرات کی میز پر واپسی اور اقوام متحدہ کے منشور کی روح کے مطابق مشترکہ طور پر عالمی گورننس میں بہتری کی ترغیب دیتا ہے۔

صرف اسی صورت میں، جب عالمی برادری اجتماعی سلامتی، مشترکہ ترقی اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ پر متفق ہو کر عملی قوت میں ڈھل جائے، انسانیت مؤثر طریقے سے طاقت کی سیاست کے خلاف مزاحمت کر سکتی ہے اور تاریخ کے پہیے کو روشنی اور پیش رفت کی سمت رواں رکھ سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں