کراچی(رپورٹنگ آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نوازشریف اور نائب صدر مریم نواز کے ترجمان اور سابق گورنرسندھ محمد زبیرنے کہاہے کہ گزشتہ تین سال میں اخراجات آمدن سے ریکارڈ زیادہ ہیں، اگر یہی حکومت رہی تو ڈیفنس بجٹ کے لیے بھی قرضہ لینا پڑے گا، نیا بجٹ آنے والا ہے لیکن پتہ نہیں وزیر خزانہ کون ہوگا، نااہل حکومت تین وزیر خزانہ اور 5 چیئرمین ایف بی آر بدل چکی ہے، یہ لوگ رہیں تو ملک میں مزید تباہی آئے گی،
آمدنی بڑھ نہیں رہی اور مہنگائی مستقل بڑھ رہی ہے،ملک میں مہنگائی اور غربت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،ہر ماہ معیشت کے اہداف آتے ہیں،بڑے محلات میں بیٹھ کر ٹوئٹ کرنا آسان ہے، پانچ وزراء کہہ چکے مریم نواز لندن جارہی ہیں،وہ کہہ چکی ہیںکہ حکومت کو گھر بھیجے بنا کہیں نہیں جائیں گی، ان کو سب سے زیادہ خوف مریم نواز سے ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعرات کو مسلم لیگ ہائوس کارساز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات خواجہ طارق نذیر، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شہبازشیخ اور دیگربھی موجود تھے۔محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پچھلے سال گروتھ ریٹ منفی ہوا،
پاکستان میں 3 جنگیں ہوئیں، مشرقی پاکستان الگ ہوا، بڑے بڑے بحران آئے مگر گروتھ ریٹ منفی نہیں ہوا، عمران خان دعوی کرتے تھے کہ میرے پاس بہترین ٹیم ہے۔ ڈھائی سال میں تین وزیر خزانہ، چار فنانس سیکریٹری تبدیل ہوچکے۔ وزیر اعظم بار بار اپنی معاشی ٹیم تبدیل کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حماد اظہر نے معاشی استحکام کے بڑے بڑے دعوے کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک سال سے چینی بحران چل رہا ہے، ان کی ناک کے نیچے پیسے بنائے جارہے ہیں، چینی بحران پر تحقیقات اور ایف آئی آر کاٹ رہے ہیں،مگر چینی 110روپے کلو مل رہی ہے۔ شہزاد اکبر جا کر یہ نہیں چیک کرتے کہ چینی کیوں مہنگی مل رہی ہے، وہ روز آکر یہ بتاتے ہیں کہ 3 مزید ایف آئی آرز کٹ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ عامرکیانی نے ادویات میں کرپشن کی، انہیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستانی عوام کے لیے سب سے اہم چیز معیشت ہے۔ حکومت جو معیشت کے اعداد و شمار دیتی ہے ان کا تجزیہ ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ عوام کے لیے ہر نیا دن مشکل سے مشکل تر ہوتے جارہا ہے۔ نئے سروے میں عوام نے مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کو اہمیت دی ہے۔ ان کے وزراء اورمشیرکرنٹ اکائونٹ کم کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ جب کرنٹ اکائونٹ کم ہے تو مہنگائی بے روزگاری اور غربت میں کمی کیوں نہیں ہورہی؟۔سابق گورنرسندھ نے کہاکہ بجٹ آنے والا ہے اور آئی ایم ایف میں جانا ہے۔ عمران خان سے کوئی پوچھے کہ تین سال میں معیشت کا یہ حال کیوں کیا؟ یہ بتائیں کہ گروتھ ریٹ اتنا کم کیوں ہوا؟ یہ کورونا کو جواز بتاتے ہیں جبکہ کورونا سے باقی ممالک کی معیشت تباہ نہیں ہوئی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگوںکو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیاگیاہے۔ یہ لوگوں کو غربت میں دھکیلنے پر احساس پروگرام بڑھانے پر فخر کرتے ہیں۔
ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں مگر لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کردیا گیا۔ اس سال جمع کیے گئے ٹیکس کا اسی فیصد قرضوں کی ادائیگی میں جائے گا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ تین سال میں اخراجات آمدن سے ریکارڈ زیادہ ہیں۔ ان کے غلط فیصلوں سے عوام پس رہی ہے۔ اگر یہی حکومت رہی تو ڈیفنس بجٹ کے لیے بھی قرضہ لینا پڑے گا۔ حماد اظہر کی پریس کانفرنس اور ٹویٹ سے مہنگائی کم نہیں ہوتی۔محمدزبیر نے کہا کہ پانچ وزراء کہہ چکے مریم نواز لندن جارہی ہیں۔ مریم نواز کہہ چکی کہ وہ حکومت کو گھر بھیجے بنا کہیں نہیں جائیں گی۔ ان کو سب سے زیادہ خوف مریم نواز سے ہے۔ ہم نے حکومت میں اور اپوزیشن میں اصولی سیاست کی ہے۔









