شہبازاکمل جندران۔
لاہور ہائیکورٹ کے روبرو 4 فروری کو صوبے میں OPS بنیادوں پر تعینات کیئے جانے والے تمام ڈپٹی کمشنروں کی تعیناتی چیلنج کر دی گئی ہے۔


شہری تنویر سرور نے ایڈووکیٹ شہبازاکمل جندران اور ایڈووکیٹ ندیم سرورکی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس طارق سلیم شیخ کے روبرو موقف اختیار کیا کہ OPS کی آئین اور قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے تاہم اس کے باوجود چیف سیکرٹری پنجاب مسلسل غیر قانونی نوٹیفکیشنز جاری کرتے ہوئے جونئیر افسروں کو پرکشش بڑے عہدوں پر تعینات کررہے ہیں۔ اور صوبے میں 4 فروری 2023 کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت گریڈ 18 کے افسروں کو بڑی تعداد میں مختلف شہروں میں گریڈ 19 کے ڈپٹی کمشنر کے عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

اور یہی نہیں بلکہ قانون کی انتہائی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی ، شیخوپورہ، قصور، سرگودھا، مظفر گڑھ، اوکاڑہ، بہاولپور، رحیم یار خان، وہاڑی اور ڈی جی خان میں ڈپٹی کمشنرز کے گریڈ 20 کے عہدوں پر گریڈ 18 کے
Two Step Juniors
کو ڈپٹی کمشنر تعینات کر دیا ہے۔ جو کے قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے









