اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کے پی حکومت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی صوبے میں گورنر راج لگانے کا اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہے اور اس پر بھی پیش رفت ہوسکتی ہے،بات چیت ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہوتی ہے، اپوزیشن کی صوابدید ہے کہ وہ مذاکرات میں آتے ہیں یا نہیں ۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، جو روکا نہیں جائے گا، اگر کے پی حکومت دہشتگردوں کی حمایت میں آئی تو دیگر چیزوں پر غور ہوگا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا اس وقت بھی رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اور وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ کسی بھی صوبے میں گورنر راج لگانے کا اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہے، اور اس پر بھی پیش رفت ہوسکتی ہے۔وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کرنا سیاسی جماعتوں کا مینڈیٹ ہوتا ہے، اور بات چیت ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ سیاسی مذاکرات کرنا فوج کا مینڈیٹ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ سیاسی ڈائیلاگ کےلئے تیار ہے، وزیراعظم تمام اپوزیشن جماعتوں کو تین مرتبہ مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ اب اپوزیشن کی صوابدید ہے کہ وہ ڈائیلاگ میں آتے ہیں یا نہیں۔رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں کہ وہ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔ عمران خان مذاکرات کے بجائے ملک میں انارکی چاہتے ہیں۔ یہ ایک اور 9 مئی کی تلاش میں ہیں اور اسٹریٹ موومنٹ چلانا چاہتے ہیں۔ یہ پہیہ جام ہڑتال کرنا چاہتے ہیں، لیکن بری طرح ناکام ہوں گے۔









