بلاول 157

کے پی بلدیاتی انتخابات میں حکومت کی شکست صرف ٹریلر ہے،بلاول بھٹو زر داری

اسلام آباد (ر پورٹنگ آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے پی بلدیاتی انتخابات میں حکومت کی شکست صرف ٹریلر ہے،ملک کی معیشت اور حکومت کی کارکردگی اتنی خراب ہے کہ حکومتی ارکان بھی اپنے حلقوں میں حکومتی فیصلوں اور اقدامات کا دفاع نہیں کرسکتے،،جب حکمران عوام میں جائیں گے تو لگ پتہ چل جائے گا،حکمرانوں کو کے پی بلدیاتی الیکشن کی طرح پورے ملک میں شکست کا سامنا کرنا پڑیگا،حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ پر منی بجٹ لا کر ملک میں ٹیکسز کا سونامی لا رہی ہے،نیا پاکستان کا مطلب مہنگائی، بے روزگاری اور غربت ہے، آپ نے پاکستان کی معاشی خود مختاری کا سودا کیا ہے، جب پاکستان دولخت ہوا تب بھی ہماری معیشت منفی نمو میں نہیں تھی، عمران خان مزید غربت اور مہنگائی کا بندوبست کر رہے ہیں،اسٹیٹ بینک بل قومی خود مختاری کے خلاف ہے، بل کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دیا جا رہا ہے، بل کے تحت حکومت اپنے ہی بینک سے قرض نہیں لے سکتی،مری اور بلوچستان میں سانحات کے دوران حکومت غائب تھی، حکومت سلائی مشین پر بھی ٹیکس لگارہی ہے،

سلائی مشین پر زیادہ نہیں بولوں گا سب کو معلوم ہے،سندھ سے یوریا بیگز کی چوری میں پی ٹی آئی وزرا ملوث ہیں،آنے والے دنوں میں فوڈ سیکیورٹی کا بحران ہوگا۔ بدھ کوڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں ضمنی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت نہ صرف سالانہ بجٹ دیتی ہے بلکہ ہر 2 ماہ بعد منی بجٹ بھی لے آتی ہے، موجودہ حکمران ملکی معیشت کے بارے میں کنفیوژہیں، کنفیوژن معیشت کی موت ہوتا ہے جبکہ معیشت پر کیے گئے فیصلے عوام کے لیے تکلیف دہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب آپ آئی ایم ایف کے پاس گئے تو آپ کمزور تھے اس لیے کمزور ڈیل کی، آئی ایم ایف ڈیل کا بوجھ اب ملک کے غریب عوام اٹھائیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آئی ایم ایف کا یہ بوجھ عوام کا معاشی قتل ہے، نیا پاکستان کا مطلب مہنگائی، بے روزگاری اور غربت ہے، آپ نے پاکستان کی معاشی خود مختاری کا سودا کیا ہے، جب پاکستان دولخت ہوا تب بھی ہماری معیشت منفی نمو میں نہیں تھی،

عمران خان مزید غربت اور مہنگائی کا بندوبست کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ حکومت منی بجٹ میں نئے ٹیکس لگا رہی ہے، گاڑیوں کے ٹیکس میں 100 فیصد اضافہ ہوگا، یہ لوگ ٹیکسز کا سونامی لے کر آرہے ہیں، منی بجٹ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت، آئی ایم ایف سے جو ڈیل لے کر آئی وہ بہت کمزور ہے، ڈیل کے تحت نئے لگنے والے ٹیکس کا بوجھ نوجوانوں کو اٹھانا پڑے گا، وزیر اعظم وہ کام کرنے جارہے ہیں جس میں اتحادی بھی ان کا ساتھ نہیں دینا چاہتے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت کبھی کہتی ہے کہ دنیا میں مہنگائی ہے مگر پھر بتاتے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی نہیں ہے، کہتے ہیں پاکستان اب بھی خطے میں سب سے سستا ملک ہے حالانکہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اس وقت ملک میں تاریخی مہنگائی ہے، وزیر اعطم مہنگائی کا نوٹس لیتے ہیں اور جب بھی وہ نوٹس لیتے ہیں تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، ملک میں غربت اور بے روزگاری کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اب ملک کی معیشت اور حکومت کی کارکردگی اتنی خراب ہے کہ حکومتی ارکان بھی اپنے حلقوں میں حکومتی فیصلوں اور اقدامات کا دفاع نہیں کرسکتے۔

پاکستان کے عوام جلد آپ کی کارکردگی بتائیں گے کہ آپ کو لگ بتا جائے گا،حکمرانوں کو کے پی بلدیاتی الیکشن کی طرح پورے ملک میں شکست کا سامنا کرنا پڑیگا۔انہوںنے کہاکہ کبھی کہا جاتا ہے کہ ملک میں مہنگائی سندھ حکومت کی وجہ سے ہے جب ہم نے ان سوال کیا کہ ملک میں مہنگائی کیوں ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم نے وزرا کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ ملک میں کوئی مہنگائی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسانوں کی قاتل ہے، آپ نے یوریا کا بحران پیدا کیا، ادویات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا، اب مزید نئے ٹیکس لگائے جارہے ہیں، عوام آدمی گھر کا بجلی، کسان ٹیوب ویل کا بل ادا نہیں کر پارہے تھے، اب حکومت نے سولر پینلز پر بھی نئے ٹٰیکس لگا دیے، دنیا گلوبل چیلنجز سے نمٹ رہی ہے، ماحولیاتی آلودگی کے باعث تباہی آرہی ہے تو آپ توانائی کے متبادل ذرائع پر سولر پینلز پر بھی ٹیکس لگا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم بنی گالہ سے وزیر اعظم ہاؤس جانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں، ٹویٹر اور فیس بک کی جماعت نے آئی ٹی سیکٹر پر بھی ٹیکس لگادیا، منی بجٹ سے ایک ہزار سی سی گاڑی کی قیمت میں 100 فیصد اضافہ ہوگا، مہنگائی اور بے روزگاری کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ منتخب حکومت ایسے فیصلے کر ہی نہیں سکتی، آپ نے عام آدمی کی زندگی مشکل میں ڈال دی،

جب حکمران عوام میں جائیں گے تو لگ پتہ چل جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی حکومت ہر قومی سانحے میں گم ہوجاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ مری اور بلوچستان میں سانحات کے دوران حکومت غائب تھی، حکومت سلائی مشین پر بھی ٹیکس لگارہی ہے، سلائی مشین پر زیادہ نہیں بولوں گا سب کو معلوم ہے، شہباز شریف مفت لیپ ٹاپ بانٹتے تھے، آج نوجوان موبائل، انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں، موجودہ حکومت اس ٹیکس لگارہی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 2018 سے اب تک اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 58 فیصد اضافہ ہوا، ہر صدی میں ایک بحران آتا ہے ہمارے بحران کا نام عمران خان ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ حکومت ظالم ہے، یہ خیرات اور عطیات پر بھی ٹیکس لگا رہی ہے، ہسپتالوں کیلئے عطیہ کیے گئے سامان اور طبی آلات پر بھی ٹیکس لگائے جارہے ہیں، مختلف بیماریوں کے خلاف دی جانے والی امداد پر بھی ٹیکس لگائے جارہے ہیں، برآمدات کے خام مال پر بھی ٹیکس لگایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ فصل کے دوران پانی کی غیر منصفانہ تقسیم سے زراعت کو نقصان پہنچایا گیا، حکومت کی پالیساں معیشت کی کمر توڑنے والی ہیں، وفاقی حکومت آفات کے موقع پر غائب ہوجاتی ہے، گزشتہ قدرتی آفات کے دوران تباہی سے متاثرہ علاقوں کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے عوام دشمنی دیکھی ہے،

غریب دشمنی دیکھی ہے مگر موجودہ حکومت کے اقدامات ملک دشمنی ہیں، یوریا کا بحران حکومت کا دیا ہوا تحفہ ہے، حکومت کی نااہلی کی وجہ سے چینی، آٹے اور گیس کا بحران پیدا ہوا، گیس بحران کی وجہ سے نہ چائے پی سکتے ہیں نہ گرم پانی سے نہا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے بچوں کے دودھ پر بھی ٹیکس لگا دیے، موجودہ حکمران معصوم بچوں کے منہ سے نوالہ چھین رہے ہیں، آپ کے فیصلے ملک کے لیے تاریخی نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔عوام آدمی جانتا ہے کہ اس کی جیب پر اس کے پیٹ ڈاکا مارا گیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے، تنخواہوں میں مہنگائی میں اضافے کے تناسب سے اضافہ ہونا چاہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارا کسان یوریا کی وجہ سے پریشان ہے، حکومت کی وجہ سے زراعت اور یوریا کا بحران ہے اور آنے والے دنوں میں فوڈ سیکیورٹی کا بحران ہوگا، وفاقی حکومت یوریا بحران کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ سندھ سے ہونے والی اسمگلنگ کی وجہ سے بحران ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ حکومت اسمگلنگ کی ذمہ دار کیسے ہو سکتی ہے، سندھ کے ایک طرف سمندر ہے دوسری طرف بھارت ہے اور بارڈر پر سیکیورٹی فورسز ہیں تو کیسے اسمگلنگ ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے وزرا یوریا بحران میں ملوث ہیں، سندھ کے اسٹاک سے ایک لاکھ 50 ہزار یوریا بیگ چوری کیے گئے اور پی ٹی آئی کے وزرا اس میں ملوث ہیں۔

انہوں نے مانع حمل ادویات پر ٹیکس لاگو کرنے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت آبادی پر کنٹرول کرنے عوام کو روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے مگر آبادی پر قابو پانے کے اقدامات پر ٹیکس نافذ کرنے کے لیے تیار ہے ۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک بل قومی خود مختاری کے خلاف ہے، یہ ہماری خودمختاری پر حملہ ہے، بل کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دیا جا رہا ہے، بل کے تحت حکومت اپنے ہی بینک سے قرض نہیں لے سکتی۔ انہوںنے کہاکہ اسٹیٹ بینک کے گورنر کی تنخواہ ایک کروڑ 50 لاکھ مقرر کی گئی ہے، اسٹیٹ بینک غلامی بل میں عہدیداروں کو این آر او دیا گیا ہے، بل کے تحت اسٹیٹ بینک کے عہدیداران کو نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں سے تحفظ دیا گیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے تیار کردہ اسٹیٹ بینک بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دورحکومت میں بھی ایسے ہی مطالبات کیے تھے لیکن دونوں پارٹیوں نے آئی ایم ایف کے مطالبات منظور نہیں کیے تھے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ڈیفنس بجٹ اخراجات اسٹیٹ بینک کے ایک اکاؤنٹ میں رکھے جائیں گے جس کو آئی ایم ایف اور دیگر مالی ادارے دیکھ سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ہم اپنا دفاعی اور جوہری اخراجات دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔انہوں نے حکومت سے فیصلے کی وضاحت طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ہم ایک اکاؤنٹ کیوں رکھیں جبکہ پوری دنیا کے لیے ایسا نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں