اسد عمر 224

کورونا وائرس سے بچنے کا واحد حل ویکسین ہے، ویکسین نہ لگوانے والے کام نہیں کر سکیں گے، اسد عمر

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر منصوبہ بند ی و چیئرمین این سی او سی اسد عمر نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچنے کا واحد حل ویکسین ہے، ویکسین نہیں لگوائیں گے تو بندشوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،کورونا وباءکم ہونے سے کاروبار بحالی کی سطح تک پہنچ سکتا ہے،اکتوبر سے ان علاقوں میں پابندیاں لگائی جائیں گی جن میں ویکسینیشن کم ہو گی، ، ویکسینیشن کا ہدف حاصل کرنے والے علاقوں میں 300لوگ انڈوراور 1000لوگ آﺅٹ ڈور استعمال کر سکیں گے، یاد رکھیں کہ ویکسین نہ لگوانے والے کام نہیں کر سکیں گے۔

بدھ کو معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین این سی او سی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچنے کا واحد حل ویکسین ہے، ویکسین نہیں لگوائیں گے تو بندشوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،کورونا وباءکم ہونے سے کاروبار بحالی کی سطح تک پہنچ سکتا ہے،اکتوبر سے ان علاقوں میں پابندیاں لگائی جائیں گی جن میں ویکسینیشن کم ہو گی،پہلے جن علاقوں میں بندشیں لگائی گئیں ان علاقوں میں 15سال سے زائد 40فیصد آبادی کا ویکسینیٹڈ ہونا ضروری تھا،جن علاقوں نے یہ ہدف حاصل کرلیا ہے ان میں کورونا بندشوں میں نرمی لائی جائے گی،ان علاقوں میں سکردو،مظفر آباد، پشاور، میرپور، اسلام آباد، راولپنڈی اور کوئٹہ شامل ہیں، یکم اکتوبر سے باقی شہروں میں بندشوں کی تاریخ بڑھائی جائے گی، یہ سب عوام کی صحت اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کےلئے کیا جا رہا ہے، ویکسینیشن کا ہدف حاصل کرنے والے علاقوں میں 300لوگ انڈوراور 1000لوگ آﺅٹ ڈور استعمال کر سکیں گے

، ویکسینیٹڈ افراد مزاروں اور سینما ہال جا سکیں گے،ریستوران اور شادی ہال ہفتے کے 7دن کھلے رہیں گے، ایئرلائنز میں کھانے کی پابندی ختم کی جا رہی ہے،صرف ویکسین لگانے والے ہی بیرون ملک سفر کر سکیں گے، ہمارا ہدف تھا کہ 7کروڑ پاکستانیوں کو ویکسین لگائی جائے، ہم اس ہدف کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اکتوبر میں اس میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں کہ ویکسین نہ لگانے والے کام نہیں کر سکیں گے۔ اس موقع پر معاون خصوصی سے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ کورونا وباءسے بچنے کےلئے حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں، پہلے پابندیاں لگائی گئیں، اب ویکسین موجود ہے، ویکسینیشن کی مہم بھرپور طریقے سے جاری ہے، کل آبادی کا 12فیصد ویکسینیٹڈ ہے،15سال کی عمر سے زائد کو دیکھا جائے تو 20فیصد لوگ ویکسین لگوا چکے ہیں، ابھی بھی مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بارہ سال سے زائد عمر کے بچوں کےلئے بھی ویکسین مہم شروع کی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں نے بہت مشکلات کا سامنا کیا،بچوں کی ویکسینیشن ضروری ہے، مرد اور خواتین دونوں ویکسین لگوائیں، غلط پروپیگینڈے پر توجہ نہ دیں، ویکسین مکمل محفوظ ہے، اس میں کوئی خطرہ نہیں، حاملہ خواتین بھی ویکسین لگوائیں، ویکسین کی دونوں ڈوز لگوانے سے ہی وباءسے مکمل تحفظ ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سردیوں میں کورونا وباءکے پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے، ویکسینیشن کا ہدف حاصل کرلینے سے پابندیوں اور کورونا وائرس سے جان چھوٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں، ڈینگی کے پھیلاﺅ کو روکنے کےلئے گھروں کے اندر اور باہر پانی کو جمع نہ ہونے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں