شرجیل انعام میمن 15

کوئی بھی محکمہ بجٹ سے باہر رقم کے حصول کے لئے درخواست نہ بھیجے،شرجیل انعا م میمن

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی محکمہ بجٹ سے باہر رقم کے حصول کے لئے درخواست نہ بھیجے، اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو جنگی صورتحال کے باعث مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اور صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بھی انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے گئے۔ سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر داخلہ، قانون و پارلیامانی امور ضیا الحسن لنجار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کچے کے علاقوں کے جامع سروے کی منظوری دی گئی ہے اور اس کے لیے رقم بھی مختص کی گئی ہے، جس سے سکیورٹی مسائل کے حل میں آسانی ہوگی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے کچے میں آپریشنز بھی کیے گئے ہیں، جبکہ سندھ کابینہ نے محکمہ جنگلات کو جامع پالیسیاں بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سینٹ پیٹرک اسکول کراچی میں جدید کثیر المقاصد اسٹیڈیم کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری اداروں میں سابقہ برسوں کے طلبہ کی فیسوں کی واپسی کے لیے 3.4 ارب روپے کی اصولی منظوری دی گئی ہے۔ سندھ کابینہ نے ایس ڈی جیز کے تحت 98 اسکیموں کی منظوری دیتے ہوئے 4.33 ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ عورت فانڈیشن کے لیے 5 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی منظور کی گئی ہے۔

خیرپور میں درازہ شریف کے مقام پر حضرت سچل سرمست کے نام سے لائبریری کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جس کی لاگت 5 کروڑ 15 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ بھٹ شاہ میں حضرت شاہ لطیف بھٹائی کے مزار پر ترقیاتی کاموں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ سندھ کابینہ نے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہاری کارڈ کے ذریعے کی جائے گی، اور اس سلسلے میں کاشتکاروں کا مکمل ڈیٹا بھی موجود ہے۔شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے بی آئی ایس پی پروگرام کے آغاز کے لیے ڈیٹا اکٹھا کروایا تھا، اسی طرز پر کاشتکاروں کا ڈیٹا بھی جمع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حاملہ خواتین میں کینسر سمیت دیگر امراض کی بروقت تشخیص کے لیے ایک جدید ٹیچنگ سینٹر قائم کیا جا رہا ہے تاکہ طبی عملے کو تربیت فراہم کی جا سکے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ پولیس نے کچے کے علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس حوالے سے میڈیا کو وقتا فوقتا آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف اضلاع میں آپریشنز کے دوران 393 افراد نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ حکومت کی کوشش تھی کہ پہلے رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالے جائیں، بصورت دیگر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جرم کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے، جبکہ مختلف برادریوں کے سردار اور مقامی بااثر افراد بھی تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں