سعد رفیق 221

کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات میں عوام شیر پر مہر لگائیں گے ،ظلم کا بلا ٹوٹے گا’ سعد رفیق

لاہور( رپورٹنگ آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آج 12 ستمبر کو ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات میں عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے موجودہ فسطائیت کو مسترد کر کے شیر کے نشان پر مہر لگا کر ظلم کا خاتمہ کر دینگے ،انتخابی مہم میں حکومتی پارٹی نے سرکاری وسائل کا بے پناہ استعمال کیا ،ہیلتھ کارڈ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسے کواستعمال کیا گیا ،الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو آر ٹی ایس کی طرح استعمال کئے جانے کا خدشہ ہے ،کیا جادوگر کی جان الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں ہے؟ ،حکومتی وزرا ء اپنی زبانوں کو لگام دیں ،الیکشن کمیشن پہلی بار اپنے موقف پر کھڑا ہوا ہے ،قانون کے تابع کام کرنے والے اداروں کا دفاع کیا جائے گا،جامع انتخابی اصلاحات ہونے تک ای وی ایم ہمیں ناقابل قبول ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے اپنے دفتر میں خواجہ سلمان رفیق، یاسین سوہل اور میاں نصیر احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کی بلدیاتی انتخاب کی انتخابی مہم کے دوران سرکاری سرپرستی میں مختلف محکموں کی کرینیں تحریک انصاف کے جھنڈے لگانے کے لئے استعمال کی جاتی رہیں،پولیس کو مس یوز کیا گیا، ہمارے کارکنوں کو پکڑا گیا، پولیس حکام ہمارے منتخب رہنمائوں سے چھپتے رہے ، حکمران جو مرضی کر لیںہم اپنے ووٹ پر پہرہ دینگے ،ہم نے سکیورٹی لیئر بھی بنائی ہے ،ہمیں امید ہے کہ انتظامیہ غیرجانبدار رہے گی ۔

انہوں نے کہا کہ آج شیر کی فتح کا دن ہے ،تحریک انصاف صرف جھنڈوں اور بینروں پر نظر آئے گی گلی یاکوچوں میں نہیں ،اقلیتی حکومت سازش کے ذریعے مسلط کی گئی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت جعلی اکثریت کی بنیاد پر ای وی ایم کا بل پاس کروا بھی لے تو اپوزیشن کے ماننے تک اس کی کوئی قانونی و اخلاقی حیثیت نہیں ہو گی ،ایک ٹرم چوری کرنے کے لئے آپ پوری قوم کے ساتھ فراڈ کرنا چاہتے ہیں ،پہلے بھی ایسا کیا گیا تھا تو ملک ٹوٹ گیا تھا ،جامع انتخابی اصلاحات ہونے تک ای وی ایم ہمیں ناقابل قبول ہے، آئندہ انتخابات ای وی ایم کے ذریعے کروائے گئے تو کوئی اسی قبول نہیں کرے گا ،جو ان کی مرضی کے مطابق نہ چلے تو یہ اسے چور بنا دیتے ہیں تو یہ خود کیا ہیں؟ ،

ان کے پاس جعلی اکثریت ہے جسے کوئی نہیں مانے گا ،قومی اداروں کو حکومتی وزراء کی جانب سے الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دینے کا نوٹس لینا چاہیے ،ای وی ایم کا قانون بنا تو یہ ڈرٹی یا بلیک لاء ہوگا ۔دنیا کی کوئی جمہوریت ووٹنگ مشینیں استعمال نہیں کر رہیں تو ہمیں کیا مسئلہ ہے، کیا جادو گر کی جان الیکٹرانک مشین میں ہے ،لمبی زبانیں والے اپنی زبانوں کو لگام ڈالیں ۔

انہوں نے کہا کہ آج کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات میں عوام شیر پر مہر لگائیں گے اور ظلم کا بلا ٹوٹے گا،تبدیلی سرکار نے ووٹ خریدنے کا مکرو دھندہ کیا، صحت کارڈ اور بے نظیر کارڈ کو سیاسی رشوت کے طورپر بانٹا گیا، آزاد کشمیر کے الیکشن کی طرح نوکریوں کے لیٹر بانٹے گئے، ڈی ایچ اے میں الیکٹرانک سائن بورڈز استعمال کئے گئے ،یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے ان سے الیکشن کمیشن پوچھ سکتا ہے ؟جو افسران اس الیکشن میں جانبداری برت رہے ہیں ان پر ہماری نظر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران کہتے ہیں الیکشن کمیشن کو آگ لگادو ،ان کی گز گز کی زبانیں ،جو بھی یہ دھمکیاں دے رہے ہیں ان کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے ،صرف پی ڈی ایم نہیں پیپلز پارٹی بھی الیکٹرانک ووٹنگ کی مخالفت کررہی ہے،اگر آپ نے جبراً یہ قانون پاس کروایا تو یہ کالا قانون کہلائے گا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کو آتش فشاں کے دہانے پر نہ بٹھائیں ،ایسا پہلے بھی ہوا تو ملک دو لخت ہوگیا تھا،انتخابی اصلاحات کے بغیر الیکٹرانک ووٹنگ مشین نا قابل ہے، اگر حکومت کی سمجھتی ہے کہ عددی اکثریت کی بنیاد پر اپنا فیصلہ مسلط کروا لیں گے تو ایسا نہیں ہوگا،پاکستان کا اگلا الیکشن ای وی ایم پر عوام تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاستدان کو یہ کہنے کا حق ہے کہ اگلی باری ہماری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں