گلگت (رپورٹنگ آن لائن) صدر مملکت آصف علی زر داری نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے، بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کا بازار گرم ہے،عالمی برادری مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے،گلگت بلتستان کے عوام ملکی ترقی کیلئے شانہ بشانہ ہیں، گلگت بلتستان کے پہاڑ معدنیات سے مالا مال ہیں،گلگت بلتستان کے عوام کی بہادری کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔
ہفتہ کو گلگت بلتستان کے 78ویں یوم آزادی پر تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے پریڈ کا معائنہ کیا، صدر آصف زرداری کو گورنر گلگت بلتستان نے جشن آزادی کی تقریب میں روایتی ٹوپی پہنائی، صدر تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔صدر مملکت کی تقریب میں آمد پر بگل بجایا گیا، صدرمملکت کا گورنر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے استقبال کیا۔صدر آصف علی زرداری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے، بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر مظالم کا بازار گرم ہے، گلگت بلتستان کے عوام ملکی ترقی کیلئے شانہ بشانہ ہیں، گلگت بلتستان کے پہاڑ معدنیات سے مالا مال ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کے عوام نے عظیم قربانیاں دیکر آزادی حاصل کی، جنگ آزادی میں قربانیاں دینے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں، گلگت بلتستان کے عوام کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو تعلیم اور صحت کی تمام سہولتیں فراہم کیں، گلگت بلتستان کا سیاحت کے لحاظ سے منفرد مقام ہے، گلگت بلتستان کے عوام کی بہادری کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے، گلگت بلتستان کے 78 ویں یوم آزادی پر مبارک باد دیتا ہوں۔صدر نے کہا کہ 1947 میں گلگت بلتستان کے لوگوں نے خود آزادی لیکر پاکستان کیساتھ الحاق کیا، حالاں کہ اس جنگ میں آپ کے ایک ہزار 700 جوان شہید اور 30 ہزار زخمی ہوئے تھے۔صدر مملکت نے کہا کہ میں آپ سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آپ نے مذہب کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ شمولیت اختیار کی، میرا دل آپ کا پیار دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے، یہ میرا گھر ہے اور آپ سب میرے پڑوسی ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے پہلے دور میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایف سی آر کو ختم کرکے بادشاہت کا خاتمہ کیااور سول انتظامیہ کا نظام دیا، شہید بینظیر بھٹو نے یہاں سول حکومت کا ڈھانچہ بنایا، 2008 میں بننے والی ہماری حکومت نے آپ کو قانون ساز اسمبلی کا تحفہ دیا۔صدر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بے پناہ قدرتی وسائل ہیں، یہاں کے پانی سے بجلی بنائی جاسکتی ہے اور جس طرح کے جہاز میں یہاں آیا ہوں، وہ زیادہ مہنگے نہیں، اگر یہاں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے گلگت بلتستان کی اپنی ایئرلائن بن جائے تو کیا ہرج ہے؟انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع ہیں جن کے لیے کام کیا جانا چاہئے، یہاں کے پہاڑ ہمارا سرمایہ ہیں، یہ کوئی دیوار نہیں ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، اسی لئے آج احساس ہوتا ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال نے ہمارے لیے جو کام کیا، اس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔صدر زرداری نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔تقریب میں آمد پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل وقت کی ضرورت ہے، 72 ہزار مربع میل کا گلگت بلتستان کا علاقہ ڈوگروں سے بغیر کسی بیرونی مدد کے آزاد کروایااور کلمے کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو شہدا کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے، جس کے سپوتوں نے پاک فورسز میں ملک کے لیے خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی جانیں قربان کی ہیں، گلگت بلتستان دفاعی اہمیت کا حامل ہونے کے علاوہ قدرتی وسائل کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے، تاہم یہاں کے لوگوں کو مختلف چینلجز کا سامنا ہے۔انہوں نے صدر زرداری کی جانب سے 2009 میں علاقے کو خودمختاری دینے کے فیصلے کو یاد کیا اور کہا کہ گلگت بلتستان کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے سے یہاں کے عوام کا دیرینہ خواب پورا ہوگا، اور ہمارے ازلی دشمن بھارت کی سازشیں بھی خاک میں مل جائیں گی۔









