فیصل واوڈا 22

کراچی وفاق کو دیا جائے تو 3 ماہ میں نمایاں تبدیلی آ جائے گی، فیصل واوڈا

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سابق وفاقی وزیرسینیٹر فیصل واوڈا نے کہاہے کہ اگر کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے تو تین ماہ میں نمایاں تبدیلی آ جائے گی۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ صوبائی خود مختاری کے بعد وفاق صرف پیسہ جمع کر کے صوبوں کو دے دیتی ہے، کراچی لاوارث نہیں رہے گا اچھی خبر ہے مسائل حل کرنے جا رہے ہیں۔

صدر مملکت سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں فیصل واوڈا نے بتایا کہ آصف علی زرداری سے ملاقات میں 28ویں ترمیم زیر بحث نہیں آئی، 28ویں ترمیم کس شکل میں آتی ہے وہ وقت بتائے گا، وفاق کو ہم گالیاں دیتے ہیں لیکن وفاق تو دنیا سے قرضہ لے کر پیسہ لاتا ہے، وہ صوبوں کو آبادی کے لحاظ سے پیسے دیتا ہے لیکن صوبے کارکردگی نہیں دکھاتے تو گالیوں کا ملبہ اس پر ڈال دیا جاتا ہے، ملک کے پورے سسٹم میں اصلاحات کو ٹھیک کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ کیا ملک میں کسی امیر کا بچہ گٹر میں گرتے ہوئے دیکھا ہے؟ دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہم گٹر کے ڈھکن لگانے پر جشن مناتے ہیں، میرا سوال ہے اس جمہوری نظام میں سیاستدانوں نے عوام کو کیا دیا ہے؟ کبھی آپ کسی کو پکڑ لیتے ہیں کبھی آپ چھوڑ دیتے ہیں کسی کو ڈیفالٹ کر دیتے ہیں، نسل در نسل یہی لوگ اربوں روپے کے مالک بن گئے ہیں، غریب کو آٹا، چینی، تعلیم، موٹرسائیکل اور دیگر بنیادی چیزیں چاہئیں، موٹرسائیکل، رکشوں کی فیکٹریاں، بینک اور گاڑیوں کے کارخانے سب سیاستدانوں کے ہیں۔اسکولز اور بڑے میڈیکل اسپتال بھی بڑے سیاستدانوں کے ہیں۔

جنہوں نے ملک چلا کر آسانی پیدا کرنی تھی وہ تو امیر لوگ ہیں، ہماری نااہلی سے غریب کی نسل تباہ ہوگئی۔ امیر کی نسل در نسل حکمرانی کرتی رہے گی تو ملک کیسے ٹھیک ہوگا؟ کوئی ٹھیک کرنے جاتا ہے تو نہیں کرنے دیتے پھر سیاست اور مفاد بیچ میں آ جاتے ہیں، میں جمہوریت کے خلاف نہیں بلکہ اس نظام کے خلاف ہوں۔سینیٹر فیصل واوڈانے کہا کہ اس نظام نے انسان اور جانور کا فرق ختم کر دیا ہے، 45 سال بعد بھٹو صاحب کے کیس میں کہا گیا کہ عدالتی قتل ہوا ہے، عام آدمی کی زندگی پچھلے 75 سال میں بد سے بدتر ہوتی چلی گئی ہے، نظام میں نئے پڑھے لکھے نوجوانوں کو نہیں آنے دیا گیا، نسل در نسل غلامی ہوتی رہی عدالتی نظام میں اصلاحات نہ ہوئیں، ہم نے بھرتیاں اپنی مرضی سے کیں ڈاکوں کو بھی پولیس میں بھرتی کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست سے ملک بیٹھ گیا یہی مسئلے 50 سال سے پہلے بھی تھے اور آج بھی یہی ہیں، ہماری سیاست نے نظام کو اتنا کھوکھلا کر دیا کہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر امید کی کرن بن کر سامنے آئے انہوں نے ٹرین کو پٹڑی پر کھڑا کر دیا۔ انہوں نے ان حالات میں دشمن کو بھی منہ توڑ جواب دیا جنگ بھی جتوا دی، کوئی اچھا کام کرتا ہے تو ہم پھر اپنی نالائقی کے آگے اداروں کو گھسیٹتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل اور پاک فضائیہ کو سلام ہے کہ جنگ جتوائی کیونکہ قوم پیچھے کھڑی تھی، اب بلوچستان اور اسلام آباد میں دہشتگردی ہوئی ہمارے درمیان پھر اتحاد نہیں ہو رہا، فوجی، پولیس والے اور عام شہری شہادتیں دے رہے ہیں پھر انہیں گالیاں بھی دے رہے ہیں۔فیلڈ مارشل اور فوج کے بارے میں برا بھلا کہنے والوں سے بھی دہشتگردوں جیسا سلوک ہونا چاہیے۔ صرف مخصوص سیاستدان نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کی بات کرنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں