سندھ ہائیکورٹ 62

کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ کے-الیکٹرک اور نیپرا پر برہم

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے-الیکٹرک اور نیپرا حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

جمعہ کوجماعت اسلامی کی کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل کمال عالم نے کہا کہ 2025 میں کھڑے ہیں لیکن کراچی میں تھوڑی سی بارش کیا ہوتی ہے بجلی 3، 3 گھنٹے بند ہو جاتی ہے، نجکاری کے بعد کے ای نے اپنے انفراسٹرکچر میں کیا بہتری کی ہے؟۔انہوں نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کے-الیکٹرک نے اپنے یوٹیلیٹی سروس میں کیا بہتری کی ہے؟

نیپرا کے وکیل نے بتایا کہ ہمارا جو اختیار ہے وہ کرتے ہیں۔ اس پر فاضل جج نے کہا کہ نیپرا کیا کر رہا ہے کراچی میں 12، 12 اور 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔وکیل نیپرا نے بتایا کہ نیپرا نے کے-الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کیے اور جرمانہ بھی عائد کیا گیا، حال ہی میں کے-الیکٹرک پر 20 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ شوکاز اور جرمانوں سے لوڈشیدنگ پر کیا فرق پڑا، کراچی والوں کی صحت پر کیا فرق پڑا؟ کیا کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسلہ حل ہوگیا ہے؟جسٹس فیصل کمال عالم نے استفسار کیا کہ نیپرا کے پاس ٹیکنکل ٹیم ہے یا نہیں؟ جب سے کے ای پرائیویٹ ہوا ہے کتنا انفراسٹرکچر بہتر کیا گیا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں