محمد جاوید قصوری 51

کراچی سانحہ گل پلازہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ، ذمہ داروں کو مثال بنانا ہوگا’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں ہفتے کی شب لگنے والی ہولناک آگ پر 33 گھنٹے بعد قابو پایا جا سکا، تاہم اس دوران متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ گرنے سے تباہی میں مزید اضافہ ہو گیا،

افسوسناک واقعے میں دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق افراد کی تعداد 26 تک جا پہنچی ہے جبکہ 76 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔اندوہناک سانحے پر ردعمل دیتے ہوئے محمد جاوید قصوری نے اسے”مجرمانہ غفلت”قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری مقدمات درج کرنے اور سخت ترین سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ کراچی میں پیش آنے والے یہ سانحات کسی ایک حادثے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل المیے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

کبھی فیکٹریوں میں آگ لگتی ہے، کبھی کمرشل عمارتیں شعلوں کی نذر ہو جاتی ہیں اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں، مگر بدقسمتی سے آج تک کسی ایک واقعے میں بھی ذمہ داروں کو حقیقی معنوں میں کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی براہ راست ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے جو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے انفورسمنٹ کے فقدان کا اعتراف دراصل اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر قوانین موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو یہ انتظامی نااہلی اور مجرمانہ غفلت ہے، جس کی سزا صرف عوام کیوں بھگتیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فائر سیفٹی، بلڈنگ کوڈز اور ایمرجنسی رسپانس کے نظام پر عمل کیوں نہیں کروایا جاتا۔

محمد جاوید قصوری نے مطالبہ کیا کہ گل پلازہ سانحے کو ایک مثال بنایا جائے، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کر کے عمارت کے مالکان، متعلقہ سرکاری اداروں اور ذمہ دار افسران کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی سخت کارروائی نہ کی گئی تو ایسے سانحات مستقبل میں بھی ہوتے رہیں گے۔انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں