وزیراعظم 213

کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکووں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہوجائے،وزیراعظم

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکووں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہوجائے لیکن یہ تباہی کا راستہ ہے، زندگی میں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور وہی فیصلے آپ کو اوپر لے کر جاتے صہیں، ہم سرمایہ کاری لانے اور کاروبار چلانے کی کوشش کررہے ہیں،

اس سلسلے میں ہمارا بڑا اثاثہ سمندر پار پاکستانی ہیں ، وہ سب سے زیادہ محب وطن لوگ ہیں ،جب ہماری حکومت آئی تو افسوس ہوا کہ یہ لوگ پاکستان نہیں آرہے، ملک درست سمت میں جارہا ہے، مشکل فیصلے ہی آپ کوآگے لے جاتے ہیں اور مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ نسٹ میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقامی سطح پرکارڈیک اسٹنٹ کی تیاری اہم پیش رفت ہے،

دنیا میں کم ملک ہیں جو اپنے اسٹنٹ بنارہے ہیں، جو ملک نیوکلیئر ٹیکنالوجی بنا سکے اس کے لیے چیزیں آسانی ہونی چاہئیں تھیں۔ انہوں نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر تھوڑی دیر میں ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ڈالرز کی کمی ہوتی ہے تو زرمبادلہ ختم ہوجاتے ہیں اور جب زرمبادلہ کم ہوں گے تو روپیہ گرے گا جس سے مہنگائی آئے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم پام آئل، گھی، تیل اور دالوں سمیت کئی اشیا درآمد کرتے ہیں، اس طرح سے ہی ملک غریب ہوتا ہے، اگر ہم نے ملک کو بہتر کرنا ہے تو ڈالرز کو باہر جانے کے بجائے ملک میں آنا چاہیے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جب طیب اردوان اقتدار میں آئے تو ترکی کا حال ہمارے جیسا تھا وہاں بھی جمہوریت پنپ نہیں رہی تھی اور انہیں بھی آئی ایم ایف جانا پڑتا تھا لیکن انہوں نے منصوبہ بندی کرکے برآمدات بڑھائیں مگر ہم نے کبھی نہیں سنا کہ برآمدات بڑھانا ہے، 60 کی دہائی میں ہماری برآمدات بڑھ رہی تھیں اور اس وقت ہماری سمت درست تھی لیکن 70 میں ایک کنفیوژ مائنڈ سیٹ اسلامک سوشل ازم کے ساتھ آگیا، بد قسمتی سے نیشنلائزیشن شروع ہوگئی اور آج تک پاکستان اس مائنڈ سیٹ نہیں نکلا۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہم سرمایہ کاری لانے اور کاروبار چلانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس سلسلے میں ہمارا سب سے بڑا اثاثہ سمندر پار پاکستانی ہیں جو سب سے زیادہ محب وطن لوگ ہیں لیکن جب ہماری حکومت آئی تو افسوس ہوا کہ یہ لوگ پاکستان نہیں آرہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک درست سمت میں جارہا ہے، مشکل فیصلے ہی آپ کوآگے لے جاتے ہیں اور مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، کبھی کبھی میرے سامنے بھی دو راستے آجاتے ہیں، سارے ڈاکو شور مچاتے ہیں، میرے لیے آسان راستہ ہے کہ اپوزیشن کو معاف کردوں تو میرے پانچ سال آسانی سے گزر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہو جائے، پھر ہم بھی پارلیمنٹ میں تقریریں کریں گے لیکن یہ تباہی کا راستہ ہے اس لیے زندگی میں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور وہی فیصلے آپ کو اوپر لے کر جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں