شہبازاکمل جندران۔۔۔
قائمقام ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب رضوان اکرم شیروانی کے خلاف کرپشن کا ایک اور بڑا سکینڈل سامنے آگیا ہے جبکہ اینٹی کرپشن پنجاب نے معاملہ کی انکوائری شروع کر دی ہے۔

یوسف علی ڈوگرنامی شہری نے چیف سیکرٹری پنجاب ، ڈی جی نیب پنجاب اور ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سمیت دیگر کو درخواست دی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ رضوان اکرم شیروانی ایک کرپٹ اور بدعنوان افسر ہے۔

جس کے خلاف اینٹی کرپشن نے گاڑیوں کی جعلی رجسٹریشن کا مقدمہ درج کررکھا ہے جس کے متعلق صوبائی سیکرٹری ایکسائز بھی حکومت کو آگاہ کرچکے ہیں۔۔
مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ رضوان اکرم شیروانی نے بطور اے ڈی جی 3 کروڑ روپے فرنیچر کے نام پر خوردبرد کیئے۔اور سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن وقاص علی محمود کو حصہ دیکر خاموش کردیا ہے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ رضوان اکرم شیروانی کے خلاف 8 کروڑ روپے رشوت لیکر ہوٹل کو شراب کی فروخت کا لائسنس جاری کرنے کے الزام میں انکوائری بھی زیر التوا ہے۔
جبکہ آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام میں بھی رضوان اکرم شیروانی کے خلاف نیب میں انکوائری پینڈنگ ہے۔
درخواست گزار نے استدعا کی کہ رضوان اکرم شیروانی کو عہدے سے ہٹانے ہوئے اس ہے خلاف کارروائی مکمل کی جائے








