بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)ڈیووس فورم ابھی ختم ہوا۔ سننے میں یہ بہت اعلیٰ اور شاندار لگتا ہے، سادہ الفاظ میں یہ عالمی سطح کے طاقتور رہنماؤں کی ایک بالمشافہ نشست اور معاملہ طے کرنے والا اجتماع ہے ۔ حالیہ دنوں سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والے ڈیووس فورم میں مختلف ممالک کے بااثر رہنماؤں کی تقاریر نے دنیا بھر میں خاصی توجہ حاصل کی۔ ذیل میں فورم کے چند شرکاء کی تقاریر کے اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں، جو نہایت معنی خیز ہیں۔
کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی کا خطاب
معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہم اس وقت کسی عبوری مرحلے میں نہیں بلکہ ایک واضح ٹوٹ پھوٹ کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بعض بڑی طاقتوں نے معاشی یکجہتی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ٹیرف دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن چکے ہیں، مالیاتی ڈھانچے کو جبر کے آلے میں بدلا جا رہا ہے اور سپلائی چینز کو ایک کمزور پہلو کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔درمیانے درجے کے ممالک جن کثیرالجہتی اداروں پر انحصار کرتے ہیں، مثلاً ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، اقوام متحدہ، موسمیاتی تبدیلی کانفرنس، اور اجتماعی مسائل کے حل کا پورا نظام، سب سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔
اسی لیے اب بہت سے ممالک ایک ہی نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ توانائی، خوراک، اہم معدنیات، مالیات اور سپلائی چینز کے شعبوں میں زیادہ مضبوط اسٹریٹجک خودمختاری قائم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔یہ رجحان قابلِ فہم ہے، کیونکہ جو ملک اپنی خوراک، توانائی یا دفاع میں خود کفیل نہ ہو، اس کے پاس انتخاب کے مواقع بہت محدود رہ جاتے ہیں۔ جب قواعد و ضوابط آپ کا تحفظ نہ کریں تو خود کو بچانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تاہم ہمیں اس کے نتائج کا ادراک ہونا چاہیے۔
گروہ بندی سے بھری دنیا زیادہ غریب، زیادہ کمزور اور ناقابل دوام ہو گی۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر بڑی طاقتیں قواعد اور اقدار کا پردہ بھی چاک کر دیں اور محض طاقت اور مفاد کے حصول میں لگ جائیں، تو لین دین پر مبنی نظام سے حاصل ہونے والے فوائد کو دہرانا مزید مشکل ہو جائے گا۔ بالادست قوتیں ہمیشہ بین الاقوامی تعلقات کو اپنے فائدے میں نہیں ڈھال سکتیں۔ اتحادی ممالک غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تنوع اور متبادل راستے اختیار کریں گے، وہ “انشورنس” خریدیں گے، اختیارات میں اضافہ کریں گے اور اپنی خودمختاری کو ازسرِ نو قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔
ماضی میں یہ خودمختاری قواعد پر قائم تھی، مگر آئندہ اس کا انحصار دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت پر ہو گا۔ درمیانی طاقتوں کے لیے مل کر چلنا ناگزیر ہے، کیونکہ اگر ہم میز پر نہیں ہیں، تو ہم مینو میں ہوں گے۔میرا تبصرہ: یہ ضمیر کی بیداری سے صحیح اور غلط کا ادراک نہیں ہے، بلکہ صرف اس بات کا احساس ہے کہ کسی ظالم قوت کے خوشامدی ساتھی سے ذلیل و خوار غلام بن جانا واقعی ایک اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے۔
امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لوٹنِک کا فورم میں مکالمے کے دوران بیان
میری نظر میں ڈیووس عالمی اقتصادی فورم کسی غیر جانبدار معیار کی علامت نہیں بلکہ ایک ایسا جھنڈا ہے جو ہوا کے رخ کے ساتھ لہراتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یورپ سولر اور ونڈ انرجی کو کیوں فروغ دے رہا ہے؟ یورپ نے 2030 تک نیٹ زیرو خراج کا ہدف کیوں قبول کیا، حالانکہ وہ ایک بیٹری تک پیدا نہیں کرتا؟ چین کے پاس تیل اور گیس نہیں، اس لیے بجلی اور الیکٹرک گاڑیوں کا انتخاب ان کے لیے معقول ہے، یہ قابل عمل اور منطقی ہے۔ لیکن اگر یورپ واقعی 2030 تک نیٹ زیرو اخراج حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ بیٹریاں بنانے والے چین کے سامنے جھکنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
میرا تبصرہ: لوٹنک کے اس بیان کے دوران ہال میں موجود دیگر شرکاء کی نظریں کچھ یوں تھیں جیسے وہ کسی ناسمجھ شخص کو دیکھ رہے ہوں۔امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون کرسٹوفر نیوسم کا گرین لینڈ تنازع پر اظہار خیال اس ہفتے وائٹ ہاؤس کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق بیانات نے یورپی عوام میں تشویش پیدا کی ہے۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ سنجیدہ ہوں، خود کو سنبھالیں اور اندھی تقلید ترک کریں۔ اب وقت ہے کہ وہ سیدھی کمر کے ساتھ کھڑے ہوں، واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کریں اور جرات کا مظاہرہ کریں۔
مجھے یہ موقع پرستی اور مسلسل پسپائی برداشت نہیں ہوتی۔ مجھے تو لگتا ہے کہ مجھے ایک پورا صندوق گھٹنے کے حفاظتی پیڈز کا ساتھ لانا چاہیے تھا۔ ایک امریکی کی حیثیت سے یہ سب دیکھنا نہایت شرمندگی کا باعث ہے۔ یہ ٹرمپ کے ساتھ سفارت کاری کا انداز ہے۔ اگر یورپ اسی راہ پر چلتا رہا تو وہ نگل لیا جائے گا۔ انہیں بلند ہو کر، مضبوطی سے اور اتحاد کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔میرا تبصرہ: جرات کے لیے طاقت ضروری ہوتی ہے، سوال یہ ہے کہ یورپ کی اصل طاقت کہاں ہے؟اس فورم میں سب سے زیادہ توجہ اور متضاد جذبات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کو ملے۔ نکات اتنے زیادہ ہیں کہ بہتر ہے آپ خود یہ ویڈیو تلاش کر کے ملاحظہ کریں۔
چین کے نائب وزیر اعظم حہ لی فنگ کا خطاب
چین ہمیشہ اس بات کو اہمیت دیتا آیا ہے کہ اپنی ترقی کے ذریعے تجارتی شراکت داروں کی مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جائے اور عالمی تجارت کے حجم کو وسعت دی جائے۔ ہم کبھی بھی دانستہ طور پر تجارتی سرپلس کے خواہاں نہیں رہے۔ ہم نہ صرف دنیا کی فیکٹری بننے پر آمادہ ہیں بلکہ دنیا کی منڈی بننے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس وقت کثیرالجہتی تجارتی نظام کو گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
بعض ممالک کے یکطرفہ اقدامات اور تجارتی معاہدے عالمی تجارتی تنظیم کے بنیادی اصولوں اور قواعد کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو بین الاقوامی تجارتی نظم کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چند مخصوص ممالک کو طاقت کی بنیاد پر خصوصی مراعات حاصل نہیں ہونی چاہئیں۔ دنیا دوبارہ جنگل کے قانون کی طرف نہیں لوٹ سکتی۔ ہر ملک کو اپنے جائز مفادات کے تحفظ کا پورا حق حاصل ہے۔
میرا تبصرہ: مغربی میڈیا کہتا ہے کہ” امریکہ کے اقدامات نے دنیا کو چین سے محبت پر مجبور کر دیا ہے “۔ حالانکہ یہ چین کا مقصد نہیں بلکہ اس کے طرزِ عمل کا فطری نتیجہ ہے۔ اس دنیا میں خوش قسمتی سے چین موجود ہے، آپ لوگ اس کی قدر کرو۔








