ڈاکٹر یاسمین راشد 34

ڈاکٹر یاسمین راشد کی نواز شریف کے خلاف الیکشن پٹیشن، تفصیلی فیصلہ جاری

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )این اے 130 سے ڈاکٹر یاسمین راشد کی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف الیکشن پٹیشن مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری ہوگیا۔

ٹریبونل کے جج رانا زاہد نے چوبیس صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا،فیصلے کے مطابق الیکشن ایکٹ کے سیکشن 144 کے تحت پٹیشن دائر کرتے وقت تمام قانونی لوازمات پورے کرنا ضروری ہیں۔فیصلے میں کہاگیاہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی الیکشن پٹیشن الیکشن ایکٹ کے سیکشن 139,142,143 اور 144 کی اہلیت پر پورا نہیں اترتی،الیکشن ایکٹ کے تحت کسی کو بھی فریق بنانے کے لیے ٹربیونل کی اجازت لازم ہے،ڈاکٹر یاسمین راشد نے الیکشن پٹیشن مقررہ وقت کے اندر دائر نہیں کی ۔فیصلہ میں کہاگیاہے کہ چودہ فروری کو نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،

ٹریبونل بننے کے باوجود مقررہ وقت میں پٹیشن دائر نہیں کی گئی،ڈاکٹر یاسمین راشد نے الیکشن ٹربیونل کے بجائے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی ،درخواست گزار نے الیکشن کمیشن اور ریٹرنگ آفیسر کو فریق بنانے کے لیے ٹریبونل سے اجازت نہیں لی۔ فیصلہ کے مطابق درخواست گزار کا یہ اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے،الیکشن کمیشن، ریٹرننگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کو فریقین کی لسٹ سے ڈیلیٹ کیا جاتا ہے،نواز شریف کی کامیابی کے خلاف ڈاکٹر یاسمین راشد کی پٹیشن ناقابل سماعت قرار دی جاتی ہے۔ یہ بھی پڑھیں: میٹرک سالانہ امتحانات تاخیر سے شروع کرنے کا فیصلہ ٹربیونل کے فیصلہ کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کے مطابق درخواست کے ساتھ لگایا گیا حلف نامہ غلطی سے گم ہو گیا ہے،

یاسمین راشد کے وکیل کے مطابق الیکشن پٹیشن کے ساتھ تمام ثبوت اور رسیدیں لف کی گئیں،نواز شریف کے وکیل نے الیکشن پٹیشن کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا،نواز شریف کے وکیل کے مطابق الیکشن پٹیشن قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دائر کی گئی،نواز شریف کے وکیل کے مطابق یاسمین راشد کی الیکشن پٹیشن پر دستخط موجود نہیں،ڈاکٹر یاسمین راشد کی نواز شریف کے خلاف الیکشن پٹیشن مسترد کی جاتی ہے ۔واضح رہے کہ ڈاکٹریاسمین راشد نے نواز شریف کی این اے 130 سے کامیابی کو ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں