چکوال (رپورٹنگ آن لائن)ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے آج احساس ٹیم کے ہمراہ چکوال کی تحصیل تلہ گنگ کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ۔ احساس ایمرجنسی کیش کے دوسرے مرحلے کے تحت 16جون 2021کو ادائیگیوں کا آغاز ہونے کے بعد ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا یہ پہلا دورہ تھا ۔ انہوں نے میونسپل اینڈمنسٹریشن کے دفاتر میں ادائیگی مرکز پر مستحقین سے بات چیت کی جو وہاں رقم وصول کرنے آئیں تھیں ۔ ان تمام مستحقین کو احساس ایمرجنسی کیش یا کفالت ہینڈآئوٹ 12000روپے وصولی کیلئے 8171سروس سے پیغام موصول ہوا تھا ۔ انہیں نئے احساس سروے کے تحت اہل قرار دیا گیا تھا ۔گزشتہ ہفتے مستحقین کو احساس ایمرجنسی کیش کی فراہمی کا آغاز کیا گیا تھا ۔ تاہم، جنوری 2021سے نئی اندراج شدہ احساس کفالت مستحقین کو ادائیگیاں جاری ہیں ۔ احساس کے تحت نشاندہی کی جانے والی مستحقین کو ادائیگیاں کی جارہی ہیں ۔اس کے علاوہ، متعدد مستحقین اپنے بچوں کے ہمراہ احساس پرائمری ایجوکیشن کے تحت مشروط مالی معاونت سہ ماہی ادائیگی کی وصولی کیلئے آئیں تھیں ۔
ڈاکٹر ثانیہ نے بچوں کی ما ئوں کو دیئے جانے والے احساس تعلیم وظاف کی سہ ماہی ادائیگیاں وصول کرنے کا بھی مشاہدہ کیا ۔ احساس پالیسی کے مطابق، تمام ادائیگیوں کی بائیومیٹرک اعتبار سے توثیق کی جاتی ہے ۔ 70%سکول حاضری کی بنیاد پر بچیوں کو 2000روپے اور بچوں کو 1500روپے فی سہ ماہی وظیفہ دیا جاتا ہے ۔ بعد ازاں ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے تلہ گنگ کے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول، چکوال میں بچوں اور انکی ماوں کیساتھ احساس ایجوکیشن سی سی ٹی کے تحت غریب گھرانوں کے بچوں کے اندراج کا بھی مشاہدہ کیا ۔ ڈاکٹر ثانیہ ان بچوں اور ماوں کیساتھ بیٹھیں جو سہ ماہی وظاف کیلئے پروگرام میں اندارج کے حوالے سے قطار میں کھڑے تھے ۔ انہوں نے ڈیجیٹل نظام کے تحت رجسٹرڈ ہونے والے بچے کی تفصیلات کا بھی جائزہ لیا ۔ احساس کی ریجنل ٹیم نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو حال ہی میں شروع ہونے والی ملک گیر مہم کے بارے میں آگاہ کیا جس کے تحت احساس کے تعلیمی وظاف کیلئے مستحق بچوں کا اندراج کیا جاتا ہے ۔
اس مہم کو صوبوں ، ضلعی انتظامیہ اور اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے تحصیل سطح پر چلایا جارہا ہے ۔ اس مہم کا بنیاد ی مقصد پرائمری سکولوں میں بچوں کے اندراج کو بڑھانا ور ڈراپ آوٹ کو کم کرنا ہے ۔ احساس تحصیل سطح پر احساس فیلڈ ٹیموں ، کمپائنس مانیٹرز، اساتذہ کرام اور مساجد میں اعلانات کے ذریعے سماجی تحریک چلارہا ہے ۔ احساس ایجوکیشن سی سی ٹی پروگرام فی الحال پاکستان کے تمام اضلاع میں چلایا جارہا ہے ۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے مقامی پریس اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احساس پرائمری تعلیم مکمل کرنے والی طالبات کی حوصلہ افزائی کیلئے ایک مرتبہ کیلئے 3000روپے بطور گریجویشن بونس کے طور پر متعارف کروارہا ہے ۔ اس کی اصل وجہ تعلیم میں صنفی امتیاز کو ختم کرنا ہے ۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ گریجویشن بونس حاصل کرنے کے بعد ہر بچی ثانوی تعلیم کیلئے پروگرام میں داخلہ لے گی ۔تعلیم کے حصول میں غربت ایک مستقل رکاوٹ ہے ۔ تعلیم کیلئے مشروط مالی معاونت احساس کا ایک اہم جزو ہے اور احساس فریم ورک میں بطور پالیسی نمبر 73شامل کی گئی ہے ۔









