بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کی ریاستی کونسل کے کسٹمز ٹیرف کمیشن کی جانب سے جاری کردہ “ٹیرف ایڈجسٹمنٹ پلان 2026″ کے مطابق، 1 جنوری 2026 سے، چین 935 اشیاء پر سب سے زیادہ پسندیدہ ملک (MFN) کے ٹیرف کی شرحوں سے کم عارضی درآمدی ٹیکس نافذ کرے گا۔یہ محض ایک خالص تکنیکی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نہیں بلکہ چین کے لیے ایک پیچیدہ بین الاقوامی ماحول میں کھلے پن کو بڑھانے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے اپنے عزم کو مضبوطی سے پورا کرنے کا اہم اسٹریٹجک اقدام بھی ہے۔
بڑھتی ہوئی تجارتی تحفظ پسندی اور عالمی سپلائی چین کی تعمیر نو کے تناظر میں، چین اتنے بڑے پیمانے پر ٹیرف میں کمی کی فہرست برقرار رکھے ہوئے ہے، جو بذات خود ” کھلے پن کو مزید وسعت دینے” کے اپنے وعدے کی سب سے مؤثر عملی تعبیر ہے ۔ یہ فہرست 935 اشیاء پر مشتمل ہے، جو اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ سے لے کر بنیادی انسانی ضروریات کے تحفظ تک کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ واضح پیغام ہے کہ چین اپنی مارکیٹ کو کھول کر عالمی تعاون کو فروغ دینے کا عزم رکھتا ہے۔
اس پالیسی کے انتخاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین غیر یقینی عالمی اقتصادی صورتحال کا مقابلہ کرتے وقت کس قدر حکمت عملی سے کام لے رہا ہے ۔ مختلف شکلوں میں “ڈی کپلنگ” کے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے، چین نے تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور عالمی معیشت سے تعلقات کو گہرا کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ اس پالیسی کی یقینی نوعیت نے بین الاقوامی تجارتی ماحول میں استحکام پیدا کیا ہے اور ایک ذمہ دار بڑی طاقت کی حیثیت کو ظاہر کیا ہے۔
موجودہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میں “تعلیمی اور نئی ٹیکنالوجی ” کا رجحان بہت واضح ہے۔ کچھ اہم پرزہ جات اور جدید مواد کے درآمدی محصولات کو کم کر کے، چین فعال طور پر عالمی جدت کے وسائل اور ملک کی نئی معیاری پیداواری قوت کو مضبوطی سے یکجا کرنے کی رہنمائی کر رہا ہے۔ یہ حکمت عملی نہ تو خود انحصاری سے دست برداری ہے اور نہ ہی صرف بیرونی تکنیک پر انحصار، بلکہ یہ ایک کھلے ماحول میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور طاقت کو بڑھانے کا دانشمندانہ راستہ ہے۔
اعلیٰ درجے کے آلات اور اہم پرزوں پر محصولات میں کمی نے براہ راست حقیقی معیشت کی کمپنیوں کے “ٹیکنیکل اپ گریڈیشن ” کے اخراجات کو کم کر دیا ہے۔خاص طور پر، ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک صنعتوں کے لیے، یہ ا قدام تکنیکی ترقی کے دورانیے کو کم کرنے اور جدید صنعتی نظام کی تشکیل کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ “درآمد کے ذریعے جدت کی ترغیب” کی اس قسم کی منطق، بند ماحول میں جدت کے مقابلے میں، عالمی تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے زیادہ مطابق ہے۔
اس کے علاوہ ” سبز منتقلی ” ایک اور واضح اور مرکزی موضوع ہے ۔ لیتھیم آئن بیٹریوں میں استعمال ہونے والے “ری سائیکلڈ ” بلیک پاؤڈر جیسے وسائل پر درآمدی محصولات میں کمی چین کی سبز تبدیلی کی حکمت عملی میں عملی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔
اس سے نہ صرف مقامی کاروباری اداروں کے لیے سبز پیداواری وسائل کے حصول کے لیے لاگت کم ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس سے ایک ایسا مارکیٹ سسٹم قائم ہوتا ہے جو سرکلر اکانومی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور وسائل کے موثر استعمال کو فروغ دیتا ہے۔ ٹیرف کی ساخت میں یہ تبدیلی “ڈبل کاربن” کے ہدف کے ساتھ پالیسی ہم آہنگی پیدا کرتی ہے اور کمپنیوں کی سبز منتقلی کے لیے حقیقی اور خاطر خواہ مدد فراہم کرتی ہے۔
طبی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی، جو لوگوں کی زندگی کے لیے ضروری ہے، موجودہ ایڈجسٹمنٹ میں خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ طبی مصنوعات جیسے مصنوعی خون کی نالیوں اور متعدی امراض کی تشخیصی کٹس کی درآمدی لاگت میں کمی مریضوں کو براہ راست فائدہ پہنچاتے ہوئے ان کے بوجھ کو کم کرے گی ، اور اس سے “عوام پر مبنی” ترقی کے فلسفے کو میکرو تصور سے مخصوص پالیسیوں تک منتقل کرنے کی عکاسی ہوتی ہے ۔
عمر رسیدہ آبادی میں تیز اضافے اور صحت عامہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پس منظر میں، ٹیرف کے ذریعے اعلیٰ معیار کی طبی مصنوعات کی فراہمی میں اضافہ ایک موثر “پالیسی انسٹرومنٹ “ہے۔یہ نہ صرف براہِ راست مالی سبسڈی کے ممکنہ منفی اثرات سے بچاتا ہے، بلکہ مارکیٹ میکانزم کے ذریعے طبی وسائل کی بہتر تقسیم کو بھی فروغ دیتا ہے۔ “عوامی فلاح و بہبود پر مبنی” یہ محصولاتی پالیسی، صحت مند چین کی تعمیر کے لیے مضبوط تجارتی پالیسی کو حمایت فراہم کرتی ہے۔
نئے ٹیرف ایڈ جسٹمنٹ پلان کے علاوہ، چین کی جانب سے معاہداتی ٹیرف ،ترجیحی ٹیرف اور دیگر کثیر سطحی تجارتی انتظامات بھی قابل ذکر ہیں ۔ 34 تجارتی شراکت داروں کے ساتھ 24 آزاد تجارتی معاہدے، 43 کم ترقی یافتہ ممالک کی مصنوعات کے لیے 100 فیصد صفر ٹیرف کا نافذ ، اورایشیا پیسیفک تجارتی معاہدے کے تحت رعایتی ٹیرف کے انتظامات نے مل کر چین کے ” متنوع ،کثیر سطحی اور وسیع دائرے “کے تجارتی نیٹ ورک کی تشکیل کی ہے۔
یہ تجارتی پالیسی، چین کی عالمی اقتصادی اور تجارتی انتظام میں شمولیت کی معقول سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔ اس میں نہ صرف ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ اعلی سطحی باہمی فوائد کے تبادلے شامل ہیں، بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے خصوصی مراعات بھی ہیں ، جو عالمی مشترکہ ترقی میں معاون کے طور پر چین کے کثیر جہتی کردار کی عکاسی ہے ۔ علاقائی اقتصادی یکجہتی کے عمل میں، چین عملی اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر اعلیٰ معیار کے آزاد تجارتی زون کے نیٹ ورک کو وسعت دے رہا ہے۔
سست عالمی اقتصادی بحالی اور تحفظ پسندانہ جذبات کے پھیلاؤ کے پس منظر میں، چین کے کھلے پن کے اقدامات نے بلاشبہ کثیر الجہتی تجارتی نظام میں مثبت توانائی شامل کی ہے ۔ یہ نہ صرف چینی صارفین اور کاروباروں کے لیے فائدہ مند ہیں ، بلکہ عالمی سپلائی چین کے استحکام اور اس کی کارکردگی میں بہتری کے لیے بھی کردار ادا کرتے ہیں ۔









