بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے جاپان کے لئے دوہرے استعمال کی اشیاء پر سخت برآمدی کنٹرول کا اعلان کیا۔
چین نے فیصلہ کیا ہے کہ جاپانی فوجی استعمال کنندگان ، فوجی مقاصد نیز تمام وہ حتمی صارفین اور مقاصد جو جاپان کی فوجی صلاحیتوں کو بڑھا سکتے ہیں، ان کے لئے دوہرے استعمال کی تمام اشیاء کی برآمد پر پابندی ہو گی۔ ساتھ ہی ساتھ ، کسی بھی ملک یا علاقے سے وابستہ کوئی بھی تنظیم یا فرد جو عوامی جمہوریہ چین میں تیار ہونے والی متعلقہ دوہرے استعمال کی اشیاء جاپان کی تنظیموں یا افراد کو منتقل یا فراہم کر کے مذکورہ دفعات کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ جاپانی رہنماؤں کی جانب سے تائیوان کے حوالے سے حالیہ غلط بیانات نے چین کے اندرونی معاملات میں سراسر مداخلت اور ایک چین کے اصول کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، جس کی نوعیت اور اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جاپانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے حال ہی میں عندیہ دیا ہے کہ وہ ایک سال کے اندر اندر تین سیکیورٹی دستاویزات میں ترامیم کو آگے بڑھائیں گی۔ تین سیکیورٹی دستاویزات میں ترامیم کے اہم نکات میں دفاعی اخراجات میں اضافہ، “تین غیر جوہری اصولوں کو ترمیم کرنا”، ہتھیاروں کی برآمدی پابندیاں ہٹانا، اور جارحانہ فوجی دستوں کو بھرپور طریقے سےفروغ دینا شامل ہے۔
چینی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ جاپان کے “ری ملیٹرائزیشن” کو تیز کرنے کے خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس پر عالمی برادری کو زیادہ چوکنا رہنا چاہیے۔ جاپان کی دائیں بازو کی قوتیں “دوبارہ عسکریت سازی” پر زور دے رہی ہیں، جو علاقائی اور عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ چین کبھی بھی جاپان کی عسکریت پسندی کو دوبارہ سر اٹھانے نہیں دے گا۔









