بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کے سالانہ دو اجلاس چین کی جدیدیت اور ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت کا مشاہدہ کرنے کے لیے اہم موقع ہیں ۔ چین میں ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت قومی حکمرانی کے تمام پہلوؤں سے گزرتی ہے، بشمول انتخابات، مشاورت، فیصلہ سازی، انتظام اور نگرانی۔ یہ عوام کو اولین ترجیح دینے کی قدر کی عکاسی ہے اور اس کے ذریعے صحیح معنوں میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ عوام ہی ملک کے مالک ہیں۔
اس وقت چین میں پانچوں سطحوں پر 2.77 ملین سے زیادہ عوامی نمائندوں میں سے تقریباً 95 فیصد کاؤنٹی اور ٹاؤن شپ کے عوامی نمائندے ہیں۔ ان میں سے بہت سے فرنٹ لائن ورکرز، کسان اور پیشہ ور تکنیکی ماہرین ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو عام لوگوں کی فوری ضروریات اور خدشات کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے عوام کے مطالبات اور آوازوں کو دو اجلاسوں تک پہنچایا، جس سے مختلف علاقوں، صنعتوں اور گروہوں کی خواہشات کی بہتر عکاسی کی گئی۔
یوں اس بات کو درست انداز میں عملی جامہ پہنایا جاتا ہے کہ عوام ہی ملک کے صحیح مالک ہیں۔ مبصرین نے نشاندھی کی ہے کہ چین کی جانب سے بنیادی سطح کے لوگوں کو ریاست کے بااختیار اداروں میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا عمل دنیا میں انتہائی نایاب ہے۔ اچھی جمہوریت ہی صحیح معنوں میں عوامی مسائل حل کر سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں، چینی حکومت نے قومی عوامی کانگریس کے نمائندوں کی طرف سے 8,754 بل اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے مندوبین کی طرف سے 4,868 تجاویز پر غور کے بعد ان پر عمل درآمد کیا جو کہ بالترتیب بلوں اور تجاویز کی کل تعداد کا 95.6 فیصد اور 97.3 فیصد ہے اور تمام کیسز وقت پر مکمل کر لیے گئے۔ اسی ٹھوس اورقابل دید کارکردگی اور نتائج کے باعث چین کی ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت کو وسیع پیمانے پر پزیرائی ملی ہے۔
چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے نے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے، اور اس دوران ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت چین کی جدید کاری کی تعمیر میں زیادہ قوت محرکہ پیدا کرے گی اور دنیا کے لیے مزید ترغیب اور مواقع بھی فراہم کرے گی۔






