چین 50

چین میں قانون کی حکمرانی بہترین کاروباری ماحول ہے، رپورٹ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) قانون کی حکمرانی کو جامع طور پر آگے بڑھانے کے موضوع پر 2019 میں سی پی سی کے ایک اجلاس میں، شی جن پھنگ نے کہا کہ “قانون کی حکمرانی بہترین کاروباری ماحول ہے۔”

چین نے قانون کی حکمرانی کے تحت کاروباری ماحول کی تعمیر کے لیے ایک منظم ادارہ جاتی فریم ورک قائم کیا ہے۔ 2025 تک، نئی صنعتوں کی ترقی کے تحفظ کے لیے 200 سے زیادہ قوانین اور ضوابط جاری کیے جا چکے ہیں ۔” نجی معیشت کے فروغ کا قانون” ” 2025 میں نافذ العمل ہو ا ۔ 2024 میں دانشورانہ املاک سے متعلق مقدمات کی اوسط ٹرائل کی مدت کو کم کر کے 120 دن کر دیا گیا اور 2025 تک، لوگوں کے قعض دہندگان بے ایمان افراد کی فہرست کی عوامی تشہیر 100 فیصد تک پہنچی ۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ادارہ جاتی فریم ورک نے کاروباری ماحول کو منظم طریقے سے بہتر بنایا ہے، مارکیٹ کے اداروں کے لیے مستحکم توقعات فراہم کی ہیں، اور چین کی معیشت کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دیا ہے۔

بڑھتی ہوئی عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور تجارتی تحفظ پسندی کے سامنے چین نے ادارہ جاتی استحکام کے ذریعے بین الاقوامی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کیا ہے، اس سے نہ صرف اعلیٰ معیار کی ترقی کی اپنی بنیاد کو مضبوط کیا گیا ہے، بلکہ ایک کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کے لیے اعلیٰ سطح کے کھلے پن کے اپنے عزم کو بھی پورا کیا گیا ہے۔
چین نے اپنے بیرونی قانونی نظام کو بھی بہتر بنا یا ہے ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے قانون جیسے ضوابط کو جاری کیاہے، املاک دانش کے تحفظ کو مضبوط کیا ہے، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری تک رسائی پر پابندیوں کو ہٹایا ہے اور منفی فہرست کے انتظام کو نافذ کیا ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی توقعات کو مستحکم کیا جا سکے ۔

چین اعلی معیار کے اقتصادی اور تجارتی قوانین جیسے جامع اور ترقی پسند ٹرانس پیسیفک شراکت داری معاہدہ (CPTPP) اور ڈیجیٹل اکانومی پارٹنرشپ ایگریمنٹ (DEPA) میں فعال طور پر حصہ لے رہا ہے، قواعد کی باہمی شناخت کو فروغ دے رہا ہے، تجارتی تنازعات کو کم کر رہا ہے، اور چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے تمام کم ترقی یافتہ ممالک کو صفر فیصد ٹیرف کی مراعاتی سہولت فراہم کر رہا ہے۔
جیسے جیسے قانون کی حکمرانی تمام پہلوؤں میں مزید ترقی کر رہی ہے، چین کے بیرونی دنیا کے لیے کھلے پن میں بھی مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔ چین یقینی طور پر عالمی کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مزید “چینی حل” فراہم کرے گا اور دنیا کی اقتصادی بحالی اور ترقی میں مزید “چینی عملی طاقت” ڈالے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں