بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بیجنگ میں چین پاکستان وزرائے خارجہ کے ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کی۔فریقین نے تزویراتی روابط کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا اور 2026 میں چین پاک سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منانے کی یادگاری سرگرمیوں کے آغاز کا اعلان کیا۔ فریقین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین اور پاکستان ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت دار ہیں اور نئے دور میں قریبی چین پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لئے دونوں حکومتوں کے ایکشن پلان (2025-2029) پر عمل درآمد کریں گے۔
پاکستان نے ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند رہنے کا اعادہ کیا کہ تائیوان چین کی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہے۔
پاکستان ملکی وحدت کی تکمیل کے لئے چین کی جانب سے کی جانے والی تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور سنکیانگ، شی زانگ، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سے متعلق معاملات میں بھی چین کی مضبوط حمایت کرتا ہے۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور متعلقہ دو طرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
چین گزشتہ برسوں میں دہشت گردی پر کاری ضرب لگانے میں پاکستان کی اہم خدمات اور بے پناہ قربانیوں کا مکمل اعتراف کرتا ہے۔
فریقین نے انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون کو ہمہ گیر طور پر گہرا کرنے اور افغان مسئلے پر قریبی رابطے اور تعاون برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ صدارت سنبھالنے کے لئے پاکستان کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ دونوں فریقوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا “اپ گریڈ ورژن 2.0” بنانے پر اتفاق کیا اور چین اور پاکستان کے متفقہ ماڈل کے مطابق سی پیک تعاون میں تیسرے فریق کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ پاکستان نے مالی و مالیاتی شعبوں میں حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا۔
فریقین کا ماننا ہے کہ ہمیں دوسری جنگ عظیم کی فتح کے ثمرات کو مضبوطی سے برقرار رکھتے ہوئے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں نیز فسطائیت اور عسکریت پسندی کی بحالی کی مخالفت کرنی ہوگی اور قاہرہ اعلامیہ اور پوٹسڈیم اعلامیہ سمیت متعلقہ بین الاقوامی قانونی دستاویزات اور اصولوں پر مبنی جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظم و نسق کی حفاظت اور تاریخی سچائی اور عالمی انصاف کا تحفظ کرنا ہوگا۔









