بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کے صدر شی جن پھنگ نے امریکہ کی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے تعلیمی تبادلہ وفد کے اساتذہ اور طلبہ کے نام جوابی خط ارسال کیا۔
یہ وفد میامی ڈائمنڈ لیڈرشپ اکیڈمی، یونیورسٹی آف فلوریڈا، اور میامی ڈیڈ کالج پر مشتمل تھا، جس نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا تھا۔اتوار کے روز شی جن پھنگ نے خط میں اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ وفد کے اساتذہ اور طلبہ نے چین میں خوشگوار اور بھرپور تجربات حاصل کیے، اور اس دوران چینی ثقافت میں ان کی گہری دلچسپی اور مخلصانہ جذبات کا اظہار دیکھنے میں آیا۔
شی جن پھنگ نے اشارہ کیا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات کی امید عوام میں ہے اور مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے۔پانچ سال میں پچاس ہزار امریکی نوجوانوں کو چین مدعو کرنے کے اقدام کے آغاز کے بعد اب تک چالیس ہزار سے زائد امریکی نوجوان اس پروگرام میں حصہ لے چکے ہیں، جس سے انہیں چین کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کا موقع ملا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کے تسلسل کے لیے ایک مضبوط پل قائم ہوا۔ یہ حقیقت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ چین اور امریکہ کے عوام باہمی دوستانہ تبادلوں اور تعاون کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مزید امریکی نوجوان چین اور امریکہ کی دوستی کے فروغ میں شامل ہوں گے، دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے نئے سفیر کا کردار ادا کریں گے، اور عوامی و ثقافتی روابط کے فروغ کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات کی ترقی میں مزید مثبت کردار ادا کریں گے۔
حال ہی میں مذکورہ امریکی نوجوانوں کے تعلیمی تبادلہ وفد کے اساتذہ اور طلبہ نے صدر شی جن پھنگ کو ایک خط ارسال کیا تھا، جس میں انہوں نے اکتوبر 2025 کے چین کے دورے کے تجربات کا جائزہ پیش کیا اور “5 سال 50,000” کے اقدام کو دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان باہمی تفہیم کے فروغ کے لیے ایک قیمتی موقع قرار دیا ۔









