بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) ادیس ابابا میں افریقی یونین کے صدر دفتر میں 2026 کے “چین-افریقہ عوامی تبادلے کے سال ” کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ جمعہ کے روز وزیر خارجہ وانگ ای نے تقریب میں صدر شی جن پھنگ کا تہنیتی پیغام پڑھ کر سنایا اور ایک کلیدی تقریر کی۔
وانگ ای نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں فریقوں کے رہنماؤں کی مشترکہ رہنمائی میں چین اور افریقہ کے عوامی تبادلے متحرک اور نتیجہ خیز رہے ہیں اور ان سے بے پناہ توانائی حاصل ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ چینی اور افریقی عوام قریب تر ہو رہے ہیں، چین-افریقہ تعاون بڑھ رہا ہے اور چین-افریقہ دوستی مزید گہری ہو رہی ہے۔ ہم نے نوجوانوں کے تبادلے پر توجہ مرکوز کی ہے، اور چین اور افریقہ کے نوجوانوں کے تبادلے کے لیے مواصلت کا پل تعمیر کیا ہے۔
وانگ ای نے بتایا کہ 15 افریقی ممالک میں سترہ “لوبان ورکشاپس” قائم کی گئی ہیں، جو افریقی ترقی کے لیے ٹھوس مدد فراہم کرتی ہیں۔ چین نے 30 سے زائد افریقی ممالک کے ساتھ دوطرفہ سیاحتی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور “افریقی سیاحت” چین میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔
اپنی کلیدی تقریر میں وانگ ای نے چین-افریقہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے چین کی جانب سے چار تجاویز پیش کیں جن میں ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے جدیدیت کو آگے بڑھانے میں شراکت دار بننا، لوگوں کو اولین ترجیح دیتے ہوئے عوام کے لیے بہترین خدمات فراہم کرنا، باہمی سیکھ اور تبادلے کو برقرار رکھتے ہوئے گورننس کے فعال تبادلے کرنا اور کھلے پن اور جامعیت کی بنیاد پر مشترکہ مستقبل کے ساتھ اچھے شراکت دار بننا شامل ہے ۔









