ٹرمپ 23

چینی ہم منصب سے ملاقات شاندار رہی ،ہر چیز پر اتفاق ہو گیا ، ٹرمپ

بوسان(رپورٹنگ آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ملاقات شاندار رہی اور تقریبا ہر چیز پر اتفاق ہو گیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان نایاب معدنیات کی تجارت کا معاملہ بھی طے پا گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ چین امریکا سے بڑی مقدار میں سویابین کی خریداری شروع کر دیگا اور امریکا چین کی طرف سے فینٹینائل کے کیمیائی اجزا کی امریکا کو فراہمی کے جواب میں چینی درآمدات پر پہلے سے عائد تمام محصولات کو کم کرے گا۔امریکا اور چین کے صدور کے درمیان اہم ملاقات جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہوئی ۔ملاقات کے بعد امریکی صدر نے کہا کہ وہ آئندہ سال اپریل میں چین کا دورہ کریں گے اور اس کے فورا بعد ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ امریکا کا دورہ کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس ملاقات سے ممالک کے درمیان مزید تجارت کے لیے شرائط پر معاہدہ ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ چینی درآمدات پر اضافی محصولات کو کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو فینٹینائل کی سمگلنگ پر عائد کئے گئے تھے۔دونوں صدور کی ملاقات سے مثبت نتائج کی توقعات کی بنا پر چینی سٹاک مارکیٹ میں ملاقات سے قبل ہی زبر دست تیز ی دیکھی گئی اور وہ گزشتہ دس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ چین کا بینچ مارک شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس گزشتہ پانچ دنوں میں 2 فیصد سے زیادہ بڑھ گیا جو جمعرات کی صبح 4,025.39 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات میں مثبت پیش رفت کے نتیجے میں دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی ۔امریکی صدر نے کہا کہ چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں یوکرین جنگ بارے طویل گفتگو ہو ئی تاہم تائیوان کا کوئی ذکر نہیں ہو ا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر چین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔قبل ازیں چین کے صدر شی جن پنگ نیکہا کہ چین اور امریکا کی مذاکراتی ٹیمیں دونوں ممالک کے درمیان اہم تجارتی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے بارے میں بنیادی اتفاق رائے پر پہنچ گئی ہیں۔

جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ہماری دو تجارتی اور اقتصادی ٹیمیں باہمی تشویش کے اہم مسائل کے حل پر ایک بنیادی اتفاق رائے پر پہنچ گئی ہیں اور ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کامیابی اور باہمی خوشحالی کے حصول میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں برسوں سے بار بار کہہ رہا ہوں کہ چین اور امریکا کو شراکت دار اور دوست ہونا چاہیے، تاحال ملاقات کا باقاعدہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

دونوں صدور کی ملاقات ایک گھنٹہ 40 منٹ تک جاری رہی حالانکہ امریکی صدر نے قبل ازیں اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ ان کی اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات 6 گھنٹے طویل ہو سکتی ہے۔ ملاقات کے بعد امریکی صدر جنوبی کوریا سے امریکا روانہ ہو گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں