چینی صدر 34

چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کا رجحان تبدیل نہیں ہوگا، چینی صدر

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چینی صدر شی جن پھنگ سے بیجنگ میں گو من دانگ پارٹی کی چیئرپرسن زنگ لی ون کی قیادت میں آنے والے وفد نے ملاقات کی۔جمعہ کے روز
شی جن پھنگ نے زنگ لی ون اور ان کے وفد کے دورے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پی سی اور گو من دانگ پارٹی کے رہنماؤں کی دس سال بعد دوبارہ ملاقات دونوں جماعتوں اور دو نوں کناروں کے تعلقات کی ترقی کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
شی جن پھنگ نے زور دیا کہ بین الاقوامی حالات یا آبنائے تائیوان کی صورتحال میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کیوں نہ آئے، چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کا رجحان تبدیل نہیں ہوگا، اور دونوں کناروں کے عوام کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور باہمی روابط کے فروغ کا عمل بھی جاری رہے گا۔ دونوں کناروں کے عوام آبنائے تائیوان میں امن و استحکام، تعلقات میں بہتری اور اپنی زندگیوں میں خوشحالی کے خواہاں ہیں۔

یہ سی پی سی اور گو من دانگ پارٹی دونوں کی ذمہ داری بھی ہے اور تعاون کا محرک بھی۔ انہوں نے کہا کہ “1992 کے اتفاقِ رائے” پر قائم رہتے ہوئے اور “تائیوان کی علیحدگی” کی مخالفت کی مشترکہ سیاسی بنیاد پر ہم تائیوان کی تمام جماعتوں، گروہوں اور سماجی حلقوں کے ساتھ مل کر روابط اور مکالمہ مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں، تاکہ امن، عوامی فلاح اور قومی نشاۃ ثانیہ کو فروغ دیا جا سکے اور دونوں اطراف کے تعلقات کا مستقبل چینی عوام کے اپنے ہاتھ میں رکھا جائے۔
شی جن پھنگ نے دونوں کناروں کے تعلقات کی ترقی کے لیے چار نکات بھی پیش کیے:

پہلا، درست شناخت کے ذریعے دلوں کے تعلق کو مضبوط بنایا جائے۔دوسرا، پرامن ترقی کے ذریعے مشترکہ گھر کا تحفظ کیا جائے۔تیسرا، تبادلوں اور انضمام کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کو فروغ دیا جائے۔چوتھا، اتحاداور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کو یقینی بنایا جائے۔
زنگ لی ون نے کہا کہ دونوں کناروں کے عوام ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں، سب چینی ثقافت سے وابستہ ہیں اور ایک خاندان کی مانند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو “1992 کے اتفاقِ رائے” اور “تائیوان کی علیحدگی” کی مخالفت کی مشترکہ بنیاد پر قائم رہتے ہوئے سیاسی اعتماد کو مضبوط بنانا چاہیے، مکالمے کے پلیٹ فارم کو مؤثر بنانا چاہیے، چینی تاریخ اور ثقافت کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے، اور عوامی، معاشی، ثقافتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں کے تبادلوں اور ترقی کی حمایت پر بھی زور دیا تاکہ عوامی فلاح میں اضافہ ہو، دونوں کناروں کے تعلقات کو پُرامن انداز میں آگے بڑھایا جا سکے اور ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے، جس سے چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کا ہدف حاصل ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں