بیجنگ(رپورٹنگ آن لائن) چین کے صدر شی جن پھنگ نے دارالحکومت بیجنگ میں شجرکاری کی ایک سرگر می میں شرکت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سبز ترقی کے تصورات کو فعال طور پر اپنانا چاہیے اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینا چاہیے۔ لی چھیانگ ، چاؤ لہ جی، وانگ حو ننگ، چھائی چھی، ڈنگ شوئے شیانگ، لی شی اور ہان ژینگ سمیت دیگر پارٹی اور ریاست کے رہنماؤں نے شجرکاری میں حصہ لیا۔
جمعرات کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ
اس موقع پر چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ فی الحال چین میں جنگلاتی رقبہ کا تناسب 25 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جو عالمی سطح پر نئے سبز رقبے کا تقریباً 25 فیصد حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے بعد، صحرائے تکلمکان نے “سبز اسکارف” پہن لیا ہےا ور کورچن ریت کے میدان دوبارہ گھاس کے میدانوں کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ یہ وہ کامیابیاں ہیں جو آسانی سے حاصل نہیں ہوئیں۔صدر شی نے کہا کہ ماحولیاتی بہتری مسلسل جاری ہے، اور عوام کو اس کا براہ راست اور گہرا احساس ہو رہا ہے۔
ساتھ ہی، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ملک میں جنگلات اور گھاس کے وسائل کی کل مقدار ابھی بھی ناکافی ہے، اور معیار ابھی بھی مطلوبہ سطح پر نہیں ہے لہذا نمایاں مسائل کا حل کیا جانا ضروری ہے۔شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ ملک کو سرسبز بنانے کے لیے “معیار کو بہتر بنانے”، “صنعت کو فروغ دینے” اور “عوام کی فلاح” پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔