لاہور(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر خان ترین گروپ میں شامل 30 سے زائد قانون سازوں کے مطالبے کے پیش نظر بظاہر حکومت نے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کے خلاف چینی اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) کے افسر کو ہٹا دیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ اہم پیشرفت اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ پی ٹی آئی کے قانون سازوں سے منگل کو ہونے والی ملاقات سے قبل سامنے آئی۔ وزارت اطلاعات کے ایک ذرائع نے بتایا کہ چینی اسکینڈل انکوائری ٹیم کے سربراہ و ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر محمد رضوان کو فوری طور پر تفتیش سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد رضوان کو ‘مارچنگ آرڈر’ ملا ہے۔
اس ضمن میں انہوں نے مزید کہا کہ یہ پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین اور ان کے ساتھ موجود قانون سازوں کا بنیادی مطالبہ تھا۔ واضح ر ہے کہ محمد رضوان نے نہ صرف جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین پر مقدمہ درج کیا بلکہ چینی اسکینڈل میں مسلم لیگ(ن)کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف 5 ارب روپے کی منی لانڈرنگ اور دھوکہ دہی کے الزامات میں ایف آئی آر بھی درج کی تھی۔ علاوہ ازیں ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر محمد رضوان نے وفاقی وزیر خسرو بختیار اور ان کے کنبہ کے افراد اور دو میڈیا ہاوسز کی شوگر ملوں پر بھی ہاتھ ڈال دیا تھا۔
محمد رضوان کی سربراہی میں ایف آئی اے کے تفتیش کاروں نے شوگر مافیا کے ذریعہ گزشتہ ایک سال کے دوران قیاس آرائی پر مبنی قیمتوں کا تعین کے ذریعے 110 ارب ڈالر کی غیرقانونی کمائی کا سراغ لگایا تھا۔ انکوائری کے مطابق سٹہ مافیا نے ایک سال کے دوران (قیاس آرائیاں) ایکس مل قیمت میں 20 روپے فی کلو گرام فراڈ کیا تھا اور اب وہ رمضان میں اسے 110 روپے فی کلو تک لے جانے کی سازش کر رہے ہیں ۔ جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین ایف آئی اے کے مقدمات میں 3 مئی تک ضمانت پر ہیں۔









