عوامی کانگریس 8

چین، دو اجلاسوں کے ذریعے عوام کے دل کی آواز سنے جانے کا نیا منظرنامہ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)اس سال چین کے دو اجلاسوں (قوامی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی قومی کمیٹی کے سالانہ اجلاس) کے دوران، دیہات میں بزرگ افراد کے مسائل دوبارہ نمائندوں اور مندوبین کی توجہ کا مرکز بنے ۔صوبہ ہوبے کے وفد کے اجلاس میں، قومی عوامی کانگریس کی نمائندہ محترمہ بی لی شیا نے جذباتی انداز میں دیہی علاقوں کے 70 سال سے زائد عمر کے بزرگوں کے لیے آواز بلند کی۔

انہوں نے تجویز دی کہ ان بزرگوں کی ماہانہ پنشن کو موجودہ 200 یوآن سے بڑھا کر 400 یوآن کیا جائے اور انہیں رہائشی طبی بیمے کی فیس سے مستثنٰی کیا جائے۔ بی لی شیا نے جذباتی لہجے میں کہا کہ پرانی نسل کے کسانوں نے ملک کی دیہی اصلاح و ترقی کے لیے اپنی ساری عمر قربان کی، اب وہ بُوڑھے ہو گئے ہیں، کام کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، اور انہیں جو پنشن ملتی ہے، اس سے ان کی زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔یہ بات کرتے ہوئے بی لی شیا کا دل بھر آیا۔ اجلاس کے بعد بی لی شیا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کی تجویز نے جلد ہی وزارت خزانہ، وزارت شہری امور سمیت متعلقہ محکموں کی توجہ حاصل کی ، اور انہوں نے بی لی شیا سے اس حوالے سے فون پر بات بھی کی۔

بی لی شیا کے دل سے نکلی ہوئی اس ہمدردانہ تجویز نے نہ صرف لاکھوں لوگوں کے دلوں کو چھو لیا بلکہ دیہات میں بسنے والے بزرگوں کے اس عوامی مسئلے کو ٹیلی ویژن، اخبارات اور موبائل نیوز میڈیا کے ذریعے ہر گھر تک پہنچایا ۔ اس مسئلے پر صرف بی لی شیا نے نہیں بلکہ دو اجلاسوں کے دوران دس سے زائد نمائندوں اور مندوبین نے بھی یک زبان ہو کر آواز اٹھائی، تاکہ عام لوگوں کی خواہشات براہِ راست حکومت کے اہم ترین حلقوں تک پہنچ سکیں۔ نمائندوں کے جذباتی بیانات سے لے کر کروڑوں نیٹیزنز کی حمایتی ہم آہنگ آواز تک، ایک تحریر کردہ تجویز سے لے کر کئی وزارتوں کی فوری توجہ اور رد عمل تک ،اس سال کے دو اجلاسوں کا یہ منظر، چینی طرز کی جمہوریت کا سب سے زندہ اور عملی مظہر ہے۔

نیو میڈیا کی مدد نے دو اجلاسوں میں عوامی رائے کے اظہار کو مزید طاقتور بنا دیا گیا ہے۔ پہلے زمانے میں، نمائندوں اور مندوبین کی تجاویز ماس میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچائی جاتی تھیں، جن کی رسائی محدود اور تبادلہ خیال کی سطح ناکافی ہوتی تھی۔ مگر آج بی لی شیا کے جذباتی بیان کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی جب ٹاپ ٹرینڈز پر گئی تو نیٹیزنز نے تبصروں میں لکھا: “دیہی پنشن بڑھانے کی حمایت”، “پرانی نسل کے کسانوں کو مایوس نہ کیجیے”۔

یہ آوازیں نمائندوں اور مندوبین کی تجویز کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئیں۔ اب بہت سے نمائندے اور مندوبین صرف روایتی ذرائع سے بات نہیں کرتے، بعض خود اپنے بلاگز یا سوشل میڈیا پر اپنی تحقیقاتی کہانی شیئر کرتے ہیں، بعض تجاویز کی وجہ بتاتے ہوئے براہِ راست براڈکاسٹ کرتے ہیں اور تبصروں میں عوام کی آواز سن کر جواب دیتے ہیں۔ “نمائندے کی آواز + نیو میڈیا سے تشہیر + عوامی تعامل” کا یہ نیا ماڈل جمہوریت کو محض ایک تصور نہیں بلکہ عملی ، محسوس کیا جانے والا اور عوام کا احساس کرنے والا قابل عمل نظام بناتا ہے۔ یہ چین کی ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت کی جدید ترین شکل ہے ۔عوام کے پسندیدہ طریقے سے اتفاقِ رائے پیدا کیا جاتا ہے اور عوامی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جاتا ۔

اگر نیو میڈیا نے عوامی آواز کو “ترویج ” میں مدد دی ہے، تو متعلقہ محکموں کی فوری توجہ اور رد عمل نے جمہوریت کو “عملی شکل” دی ہے، جو چینی جمہوریت کی فعالیت اور اس کے مؤثر ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ بی لی شیا کی تجویز موصول ہوتے ہی وزارت خزانہ اور وزارت شہری امور جیسے اداروں نے بی لی شیا کو فوراً فون کیا۔ یہ “آواز سن کر حرکت میں آنے” کی رفتار صرف رسمی پیشکش نہیں بلکہ عوامی آواز اور نمائندوں کی ذمہ داری کا احترام کرنے کا اظہار ہے۔ جمہوریت کی اصل قدر “کتنی بات ہوئی” میں نہیں بلکہ “کیا کام ہو سکا” میں ہے؛ “آواز کتنی بلند ہے” میں نہیں بلکہ “جواب کتنا تیز ہے” میں ہے۔

متعدد وزارتوں کی فعال شراکت نے نہ صرف بی لی شیا جیسے نمائندوں کو یقین دلا دیا بلکہ پورے معاشرے کو دکھا دیا کہ دو اجلاسوں کی تجاویز محض کاغذی خواب نہیں، اور عوام کی درخواستیں کسی سمندر میں پھینکے گئے پتھر نہیں ہیں ۔ چینی جمہوریت ہمیشہ یہی راستہ اختیار کرتی ہے: “کہا ہے، تو کر دکھایا”۔ یہ عملی جمہوریت ہے۔ کھیتوں کی زمین سے شروع ہونے والی تحقیق، دو اجلاسوں میں جذباتی آواز، نیو میڈیا پر آراء کے تبادلے ، اور وزارتوں کا فوری ردِعمل ، بی لی شیا جیسے نمائندوں کی ذمہ داری کی کہانی چینی جمہوریت کی واضح خصوصیات کو نمایاں کرتی ہے: یہ بنیادی طور پر عوام سے جڑی ہے، عوام کی آواز سے جنم لیتی ہے، اور ہر عام شخص کی خواہش کو نظر میں رکھتی ہے؛ یہ جدید ذرائع سے استفادہ کرتی ہے، نطام کو متحرک بناتی ہےاور عملیت پسند ہے، تاکہ عوامی مطالبات اور درخواستیں حقیقت میں بدل سکیں۔

دو اجلاس ختم ہو گئے، لیکن عوامی آواز کی سنوائی کبھی رکی نہیں، جمہوریت کا عمل اب بھی جاری ہے۔ اصل جمہوریت زینت کا سامان نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو آنسوؤں کی آواز سن سکے، خاموش لوگوں کی ضروریات کو دیکھ سکے؛ مؤثر حکمرانی بند دروازوں کے پیچھے فیصلہ نہیں بلکہ ایسی خوشگوار گفتگو ہے جس میں عوام کے نمائندے کھیتوں میں جا کر تحقیق کریں اور متعلقہ محکمے فوری اور سنجیدہ انداز میں جواب دیں۔ جب لاکھوں نیٹیزنز کی تعریفیں جمع ہوں، جب حکومتی افسران دو اجلاسوں کے نمائندوں اور مندوبین کو فون کریں، تو ہم جو دیکھتے ہیں وہ صرف کسی ایک پالیسی کی تکمیل نہیں بلکہ چین کی ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت کا سب سے زندہ اور شفاف منظر ہے ۔یہ ہمیشہ عوام کے دل کی جانب ، ضمیر کی آواز کی جانب ، روشنی اور امید کی جانب رواں دواں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں