اسلام آباد ہائی کورٹ 16

چیئرمین سی ڈی اے کے وارنٹ گرفتاری جاری کروں تب کام ہوگا؟ جسٹس محسن اختر شہری کو قبضہ نہ دینے پر برہم

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے شہری کو پلاٹ کا قبضہ نہ دینے کے خلاف کیس کی سماعت میں اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین سی ڈی اے کے وارنٹ گرفتاری جاری کروں تب کام ہوگا؟اسلام آباد کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکٹر ای الیون میں شہری کو پلاٹ کا قبضہ نہ دینے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

عدالتی حکم کے باوجود متاثرہ شہری کو پلاٹ کا قبضہ نہ دینے پر جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل سی ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے عرصے سے کیس چل رہا ہے ابھی تک متاثرین کو قبضہ کیوں نہیں دیا گیا، کیا چیئرمین سی ڈی اے کے وارنٹ گرفتاری جاری کروں تب کام ہوگا؟ اپنے آفس کو بتائیں اپنا کام پورا کریں ورنہ وارنٹ گرفتاری ہوں گے، پھر جرمانہ بھی ہوگا اور چیئرمین اور ممبر بورڈ کو یہاں بٹھا کر کہوں گا آرڈر کریں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جب وارنٹ ہوں گے یا کوئی سخت آرڈر ہوگا تو پھر ان کی ذات پر حرف آجائے گا، انہیں سمجھائیے گا، بے شک انہیں سمجھ نہ آئے لیکن لا افسر کا کام ہوتا ہے بتانا۔

وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ ممبر سی ڈی اے بورڈ چار ہفتوں کی رخصت پر ہیں وقت دیا جائے، عدالت نے کہا کہ جو چار ہفتے کی چھٹی پر ہیں انہیں کہیں آئندہ سماعت سے قبل متاثرہ شہری کی داد رسی کریں، ممبر بورڈ کو بتائیں اگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہو تو چھٹی کے باوجود عدالت آجائیں۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کئی سال گزر گئے سی ڈی اے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک متاثرہ شہری کو پلاٹ کا قبضہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں