یوسف رضا گیلانی 34

چیئرمین سینیٹ کی کمبوڈیا کے بادشاہ اور وزیراعظم سے ملاقاتیں،سرمایہ کاری اور باہمی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال

نوم پنہ ()چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے سرکاری دورے کے دوران کمبوڈیا کے بادشاہ پریہ بات سمڈیچ پریہ بوروم نیتھ نوردوم سیہامونی سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران پاکستان اور مملکت کمبوڈیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، پارلیمانی سفارتکاری کے فروغ، سیاسی روابط اور عوامی سطح پر تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ کے ہمراہ سینیٹرز ڈاکٹر زرقاسہروردی تیمور،سینیٹر عابد شیر علی،سینیٹر ضمیر حسین گھمرو اور چیئرمین سینیٹ کی مشیر و بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کی سفیر مصباح کھر بھی موجود تھیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے کمبوڈیا کے بادشاہ کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مدبرانہ قیادت، اخلاقی وقار، قومی اتحاد، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور کمبوڈین عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کمبوڈیا کی قیادت اور عوام کو سماجی و اقتصادی ترقی، سیاسی استحکام اور قومی ہم آہنگی کی جانب مسلسل پیش رفت پر مبارکباد بھی دی۔

سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ روابط باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے خطے میں تعاون اور بین الپارلیمانی مکالمے کے فروغ میں کمبوڈیا کے تعمیری کردار کو سراہا۔چیئرمین سینیٹ نے کمبوڈیا کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے دور وزارت اعظمیٰ میں ایشیا پیسفک کمبوڈیا کانفرنس میں شریک ہوئے،

اس موقع پر اس وقت کے وزیر اعظم سمڈیچ تیچو ہن سین سے ملاقات بھی کی۔ انہوں نے جولائی 2023ء میں کمبوڈیا کا دورہ کرتے ہوئے انٹرنیشنل لیڈرشپ کانفرنس میں شرکت اور عام انتخابات کا بین الاقوامی مبصر کی حیثیت سے مشاہدہ بھی کیاجو جمہوری عمل اور عالمی پارلیمانی تعاون کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا مظہر ہے۔انہوں نے حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ 1952ء میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعاون میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

پارلیمانی تعاون پر زور دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے 2016 ءمیں پاکستان اور کمبوڈیا کے سینیٹس کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا ذکر کیا اور پارلیمانی فرینڈشپ گروپس، کمیٹی سطح کے تبادلوں اور علاقائی پارلیمانی فورمز میں فعال شرکت کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی روابط تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔سید یوسف رضا گیلانی نے 2025ء میں پاکستان کی جانب سے منعقد کی گئی انٹر پارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) میں قیادت کے کردار کو اجاگر کیا اور نومبر 2025ء میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پہلی آئی ایس سی کانفرنس میں کمبوڈیا کی فعال شرکت کو سراہا۔

انہوں نے آئی ایس سی فریم ورک کے تحت کمبوڈیا کی مزید شمولیت کا خیرمقدم بھی کیا۔ملاقات کے دوران تجارت و معیشت، دفاع و سلامتی، ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ عوامی روابط، ثقافتی تبادلوں اور پاکستان کی گندھارا تہذیب سے جڑے بدھ مت ورثے کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔بعدازاں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے مملکت کمبوڈیا کے وزیراعظم سامدیچ موہا بورور تھیپاڈی ہن مانیٹ سے بھی ملاقات کی جس میں پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارت کاری، سیاسی روابط اور عوامی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کمبوڈیا کی قیادت کی جانب سے پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین 28 مئی 1952ء سے قائم دوستانہ اور تاریخی سفارتی تعلقات کو سراہا۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور کمبوڈیا کے تعلقات باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور کثیرالجہتی عالمی فورمز میں قریبی تعاون پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے 2025–26 کے لیے انتخاب میں کمبوڈیا کی حمایت کو سراہا اور آسیان کے ساتھ پاکستان کے روابط بالخصوص سیکٹرل ڈائیلاگ پارٹنر اسٹیٹس اور آسیان ریجنل فورم کی رکنیت میں کمبوڈیا کے کردار کو بھی قابل قدر قرار دیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کمبوڈیا کے ساتھ اپنے دیرینہ روابط کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ انہوں نے ایشیا پیسیفک کمبوڈیا کانفرنس میں شرکت کی تھی اور اس وقت کے وزیراعظم سامدیچ تیچو ہن سین سے ملاقات بھی ہوئی تھی اور جولائی 2023 میں بین الاقوامی قیادت کانفرنس میں شرکت کے علاوہ عام انتخابات کے بین الاقوامی مبصر کے طور پر دورے کا بھی انہوں نے حوالہ دیا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے 2016ء میں دونوں ممالک کی سینیٹس کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو اہم سنگ میل قرار دیا۔

اس موقع پر پارلیمانی فرینڈشپ گروپس، کمیٹی سطح کے تبادلوں اور استعداد کار بڑھانے کے اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے امن، علاقائی استحکام اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے کمبوڈیا کے ساتھ قریبی تعاون اور روابط کو مزید گہرا کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں