حلیم عادل شیخ 34

پی ٹی آئی سندھ کی کراچی میں پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور ان پر دہشتگردی کے مقدمات کے اندراج کی شدید مذمت

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)پاکستان تحریک انصاف سندھ کی جانب سے کراچی میں پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور ان پر دہشتگردی کے مقدمات کے اندراج کی شدید مذمت ۔

ترجمان پی ٹی آئی سندھ کے مطابق پولیس نے مہنگائی کے خلاف پرامن احتجاج میں شریک پی ٹی آئی رہنماں عالمگیر خان، ایڈووکیٹ خالد محمود، دوا خان صابر اور معراج شاہ کو گرفتار کر کے انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی)اور سٹی کورٹ میں مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ چاروں رہنمائوں کو گزشتہ روز مہنگائی کے خلاف ہونے والے پرامن احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں دہشتگردی کے مقدمات میں نامزد کرنا ایک افسوسناک اور غیر منصفانہ اقدام ہے۔ پولیس نے فارم 45 کے منتخب ایم این ایز کو پیرآباد تھانے میں درج اے ٹی سی کی ایف آئی آر میں نامعلوم افراد کے طور پر شامل کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جو سیاسی انتقام کی واضح مثال ہے۔

اے ٹی سی عدالت نے چاروں پی ٹی آئی رہنمائوں کو جیل کسٹڈی میں بھیج دیا، جبکہ تھانہ آرٹلری میدان میں درج مقدمے میں گرفتار 23 افراد میں سے 19 کی ضمانت منظور کر لی گئی۔ اس کے باوجود عالمگیر خان، خالد محمود ایڈووکیٹ، دوا خان صابر اور معراج شاہ کو پیرآباد تھانے کی ایف آئی آر میں نامعلوم ملزمان کے طور پر ظاہر کر کے نامزد کیا گیا۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ دیگر پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ سٹی کورٹ پہنچے جہاں انہوں نے گرفتار رہنمائوں اور کارکنوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ قوم کے حقوق اور مہنگائی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے پرامن احتجاج کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں پیش کرنا جمہوری اقدار کی توہین ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارکنان عوام کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ایسے ہتھکنڈوں سے ان کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پی ٹی آئی کا قائد عمران خان گزشتہ تین برسوں سے ناحق قید میں ہے مگر اس کے باوجود پارٹی کارکنان اپنے نظریے اور جدوجہد پر قائم ہیں۔حلیم عادل شیخ نے موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے، مہنگائی عروج پر ہے، پیٹرولیم مصنوعات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں اور ملک کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ نااہل حکمرانوں نے عوام کو مہنگائی کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں پرامن احتجاج کرنے والوں پر تشدد اور جھوٹے مقدمات قائم کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ اگر عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے پریس کلب کا رخ بھی نہ کریں تو پھر وہ کہاں جائیں؟ پریس کلب کے راستے بند کرنا آزادی اظہار پر قدغن کے مترادف ہے۔پی ٹی آئی سندھ نے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار رہنماں اور کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف درج جھوٹے مقدمات واپس لیے جائیں اور ملک میں سیاسی استحکام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ترجمان نے کہا کہ جنگی اور بحرانی حالات میں ایسے فیصلے عوام میں مزید بے چینی اور نفرت کو جنم دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں