ٹم ڈیوڈ 203

پی ایس ایل کھیل کر خود کو پہلے سے کافی بہتر بیٹر محسوس کر رہا ہوں، ٹم ڈیوڈ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)پاکستان سپر لیگ کی ٹیم ملتان سلطانز میں شامل جارح مزاج بیٹر ٹم ڈیوڈ نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کھیل کر وہ خود کو پہلے سے کافی بہتر بیٹر محسوس کررہے ہیں، پچھلے سال لاہور قلندرز کے ساتھ ڈبیو میں زبردست اعتماد ملا اور اس سال ملتان سلطانز کے ساتھ بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔

ایک انٹرویومیں انہوںنے کہاکہ پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنا ان کیلئے کافی بڑا موقع تھا جس کا ان کے کیریئر پر بھی گہرا اثر پڑا، پی ایس ایل کھیل کر ان کو مختلف اور سخت کنڈیشنز میں کھیلنے کا اعتماد ملا۔ اس بار ملتان سلطانز کے ساتھ شامل ہونا بھی اچھا موقع ہے جہاں ایک مضبوط بیٹنگ لائن کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے، یہ سیزن کافی شاندار جارہا ہے، ابتدائی میچز میں ہی اتنا کچھ سیکھ لیا ہے کہ لگ رہا ہے کہ پہلے سے بہتر بیٹر بن چکا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ میں بولنگ کا معیار کافی سخت ہے اور بطور غیر ملکی بیٹر جو یہاں کی کنڈیشنز سے ہم آہنگ نہیں، یہاں کھیل کر خود کو سخت چیلنج کیلئے تیار کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

بگ بیش میں ہوبارٹ ہریکینز کی نمائندگی کرنے والے ٹم ڈیوڈ نے گزشتہ سال پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کے بعد کیریبئن پریمیئر لیگ میں سینٹ لوشیا کنگز اور آئی پی ایل میں بنگلور کی فرنچائز کی نمائندگی کی تاہم وہ پاکستان سپر لیگ سے کافی متاثر ہیں۔انہوںنے کہاکہ پی ایس ایل میں ہر دوسرا بولر 145 کی رفتار سے گیند کرا رہا ہوتا ہے جس کا سامنا کرنا ایک چیلنج ہے تاہم اس چیلنج کا سامنا کرکے انہیں سیکھنے کو بہت کچھ مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ویسے تو یہ میرا دوسرا ہی سیزن ہے لیکن مجھے اس لیگ کے معیار کا کافی اندازہ ہوگیا ہے، مجھ سے زیادہ میچز کھیلنے والے پلیئرز بھی یہی بتاتے ہیں کہ یہاں فاسٹ بولرز بہت زبردست ہیں۔

ایک سوال پر سنگاپو ر نیشنل ٹیم کے کھلاڑی نے کہا کہ اگر مختلف لیگز کھیلنے کا موقع ملا تو اس سے کرکٹ بہتر ہوگی تاہم یہ موقع حاصل کرنے کیلئے ایسوسی ایٹ ملکوں سے تعلق رکھنے والے کرکٹرز کو بھی اپنا معیار ثابت کرنا ہوگا، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں چند ایک سامنے آئے تھے، امید ہے دنیا بھر کی لیگز میں ایسے پلیئرز کو موقع ملے گا۔سنگاپور کی ٹیم کو اس سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گلوبل کوالیفائرز میں شرکت کرنا ہے مگر ٹم ڈیوڈ سمجھتے ہیں کہ ٹیم کو اس طرح تیاری کا موقع نہیں مل سکا جو موقع ان کی مخالف ٹیموں کو میسر تھا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ کووڈ کی وجہ سے سنگاپور کی ٹیم زیادہ میچز نہیں کھیل پائی اور پلیئرز صرف ٹریننگ سیشنز تک محدود رہے۔

انہوں نے کہا کہ سنگاپور کو مزید کرکٹ ملنی چاہیے، بڑی ٹیموں کے ساتھ تو سیریز ممکن نہیں کیوں کہ ان کے کیلنڈر مصروف ہیں، لیکن خطے کی دیگر بہتر ایسوسی ایٹ ٹیموں کے ساتھ میچز ملنے چاہئیں۔انہوں نے پی ایس ایل ٹیم ملتان سلطانز کے ماحول کی تعریف کی اور کہا کہ محمد رضوان شاندار لیڈر ہیں جو ہر کسی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جبکہ عمران طاہر جیسا کھلاڑی بھی ٹیم میں موجود ہے جو نہ صرف ایک اچھا کرکٹر بلکہ ایک اعلیٰ اینٹرٹینر بھی ہے۔انہوں نے اپنے ساتھی شاہنواز داہانی کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شاہنواز داہانی بہت زبردست کیریکٹر ہے، ٹیم کا سب سے پرجوش رکن ہے اور ہر وقت ہنستا مسکراتا رہتا ہے۔ ٹم ڈیوڈ نے انکشاف کیا کہ داہانی ان کو اردو سکھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

داہانی کے بارے میں ان کا کہنا تھا ‘ایسا کھلاڑی ٹیم میں ہو تو بہت اچھا لگتا ہے ، خاص طور پر جب آپ کا موڈ ڈاؤن ہو یا کارکردگی خراب ہو تو داہانی جیسا کردار آپ کا موڈ تبدیل کرنے اور آپ کو مسکرانے پر مجبور کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔’جب ان سے پوچھا گیا کہ پی ایس ایل میں ان کے اہداف کیا ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کی بس یہ ہی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ سیکھیں، ٹی ٹوئنٹی میں آپ اعداد و شمار کی بنیاد پر اہداف نہیں بناسکتے اور آپ کو انتظار کرنا پڑتا ہے کہ کب صورتحال ایسی ہو کہ آپ ٹیم کی جیت میں کردار ادا کرسکیں اور اگر میں نے ملتان کی جیت میں کردار ادا کرلیا تو اطمینان ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں