پی آئی اے 192

پی آئی اے کے خسارے میں اضافے کے بجائے کمی نوٹ کی گئی ہے، حکومت

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) سینیٹ کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ پی آئی اے کے خسارے میں اضافے کے بجائے کمی نوٹ کی گئی ہے، 2018میں پی آئی اے کو 67327ملین روپے کا خسارہ ہوا، 2019میں 52602ملین جبکہ 2020میں 34643ملین کا خسارہ ہوا، خسارہ تو ہمیں ورثے میں ملا ہے،،پی آئی اے پر پابندیاں اسی سال ختم ہو جائیں گی، جون 2021تک سونامی بلین ٹری پراجیکٹ کے تحت لگائے گئے کل پودوں کی تعداد ایک ارب 70لاکھ ہے، خیبر پختونخوا میں39کروڑ، بلوچستان میں 61لاکھ ، پنجاب میں 6کروڑ 86لاکھ، سندھ میں 40کروڑ83لاکھ پودے لگائے گئے ، آزادکشمیر میں11کروڑ جبکہ گلگت بلتستان میں 2کروڑ 23لاکھ پودے لگائے گئے، بلوچستان میں بھی درختوں کی تعداد بڑھے گی،

ان خیالات اظہار سینیٹ میں وفاقی وزیر برائے ایوی ایشن ڈویژن غلام سرور خان اوروزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی نے تحریری جواب میں کیا۔جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا ، وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر پلوشہ خان کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت موسمیاتی تبدیلی نے ایوان کو بتایا کہ جون 2021 تک سونامی بلین ٹری پراجیکٹ کے تحت لگائے گئے کل پودوں کی تعداد 1007.086 ملین ہے ، اقوام متحدہ تنظیم برائے خوراک اور زراعت، عالمی تنظیم برائے تحفظ ماحول اور عالمی جنگلی حیات فنڈ کی جانب سے لگائے گئےابتدائی تخمینہ کے مطابق پودوں کی کامیابی اور قدرتی افزائش کا تناسب 75 فیصد سے 90ل فیصد تک ہے، خیبر پختونخوا میں39کروڑ، بلوچستان میں 61لاکھ ، پنجاب میں 6کروڑ 86لاکھ، سندھ میں 40کروڑ83لاکھ پودے لگائے گئے ، آزادکشمیر میں11کروڑ جبکہ گلگت بلتستان میں 2کروڑ 23لاکھ پودے لگائے گئے، سینیٹر پلوشہ خان نے سوال کیا کہ ایک ارب پودوں کے لیئے جگہ کہاں مختص کی گئی؟ کتنی لیبر نے اس کار خیر میں حصہ لیا؟ اگر اس لہلہاتے جنگل کودیکھنا ہو تو ہرصوبے میں کون سے وہ علاقے ہیں جہاں ہم جا سکتے ہیں اور ہم یہ درخت دیکھ کر خوش ہو سکتے ہیں،

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان کو بتایا کہ درخت بہت سے ہم نے اگا بھی دیئے ہیں اور اگ بھی رہے ہیں، ہمارے پاس اس کے پراپر کوآرڈینیٹس ہیں ،سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ بلوچستان میں ایک ارب میں سے صرف 60لاکھ درخت لگے،60لاکھ میرے لیئے شرم کا مقام ہے، بلوچستان کے ساتھ ہر چیز میں زیادتی کیوں ہو رہی ہے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ بلوچستان میں بھی درختوں کی تعداد بڑھے گی، سینیٹر خالدہ اطیب کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر برائے ایوی ایشن ڈویژن غلام سرور خان نے ایوان کو بتایا کہ حیدرآباد ایئرپورٹ تو آپریشنل ہے، اے ٹی آر 42 جہاز لینڈکر سکتے ہیں ،کمرشلی یہ وائیبل نہیں ہے۔سینیٹر بہرہ مند تنگی کے سوال کے تحریری جواب میں ایوی ایشن ڈویژن نے ایوان کو بتایا کہ پی آئی اے کے خسارے میں اضافے کے بجائے کمی نوٹ کی گئی ہے، 2018میں پی آئی اے کو 67327ملین روپے کا خسارہ ہوا، 2019میں 52602ملین جبکہ 2020میں 34643ملین کا خسارہ ہوا، غلام سرور خان نے ایوان کو بتایا کہ خسارہ تو ہمیں ورثے میں ملا ہے،پی آئی اے پر پابندیاں اسی سال ختم ہو جائیں گی،

سینیٹر کرشنا کماری نے حیدرآباد میں پی آئی اے کا بکنگ آفس بندہونے کا معاملہ اٹھایا ، غلام سرور خان نے کہا کہ پی آئی اے کو ورثے میں 462ارب کا خسارہ ملا اور 462یہی لوگ کھا گئے جو سوال کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں