سید حسن مرتضیٰ 85

پیپلز پارٹی سسٹم کو ڈی ریل کر کے لمبی آمریت لانے والے ذہنوں کے ساتھ نہیں چل سکتی’سید حسن مرتضیٰ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سسٹم کو ڈی ریل کر کے لمبی آمریت لانے والے ذہنوں کے ساتھ نہیں چل سکتی،پیپلز پارٹی کو مفاہمت کی پالیسی سے خاصاً نقصان پہنچا ہے مگر ہم نے پاکستان کو پہلے قرار دیکر یہ نقصان برداشت کیا ہے۔

وہ پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹان میں عثمان ملک،چودھری اسلم گل،جمیل منج،علامہ یوسف اعوان،میاں ایوب،چودھری اختر،آصف محمود ناگرہ،عائشہ نواز چودھری،بشری منظور مانیکا،راو خالد اور دیگر کیساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ وسطی پنجاب کے 2قومی اور میانوالی کی صوبائی حلقے سے پیپلز پارٹی الیکشن لڑنے جا رہی ہے۔عوام دوبارہ پیپلز پارٹی کی طرف آ رہے ہیں۔این اے 129سے 4اور این اے 66سے 2امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں کسی قسم کی امداد کی ضرورت نہیں۔پیپلز پارٹی وسطی پنجاب اور لاہور اپنے وسائل سے ضمنی الیکشن لڑے گی ،پارلیمانی بورڈ سے ٹکٹ کا اعلان ہوتے ہی نامزد امیدواروں کی مہم چلائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ لیگل،میڈیا،انتخابی اور رابطہ کمیٹیوں کا نوٹیفکیشن کر رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ الیکشن آرہے ہیں،پیپلز پارٹی کو آپ سڑکوں پر دیکھیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کے احتجاج اور راستے روکنے کے حق میں نہیں مگر قومی دن یا کسی غیر ملکی سربراہ کی آمد پر ہی پی ٹی آئی کیوں احتجاج کرتی ہے،نیشنل ایونٹس کے ساتھ خود کو جوڑ کر پی ٹی آئی پتہ نہیں کیا کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اربعین کے لئے سکیورٹی دینا حکومت کا کام ہے پابندی لگانا نہیں،حکومت فی الفور زمینی راستے کھولنے کے احکامات جاری کرے اور زائرین کے زیارات پر جانے کا حق دیا جانا چاہیے۔حسن مرتضیٰ نے کہا کہ حکومت کو مشورہ دیں تو انکے ترجمانوں کو بڑی گرمی لگتی ہے۔یہ مشورہ نہیں ایک پاکستانی کا مطالبہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہیوں کے متاثرین کو مدد دی جائے،کسان مافیا نہیں کمزور طبقہ ہے جس کا خون ہر سال نچوڑا جاتا ہے،پانی نہ ملنے کی شکایت کریں تو سیلابی پانی میں ڈبو دیتے ہو۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو فوری آفت زدہ قرار دیا جائے اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کے ازالے کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت آدھے سچ اور آدھے جھوٹ بولنا چھوڑ دے،ایک کیمونٹی کا ٹارگٹ مت کریں،جو بیورو کریٹ کرپٹ ہیں انکا نام لیں۔ساری نوکر شاہی کو کرپٹ مت قرار دیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن ذاتی اختلافات بھلا کر ضمنی الیکشن لڑیں،الیکشن کمشن متنازعہ ہے جس کا نتائج بنانے میں کردار ہے۔

سمبڑیال الیکشن میں فارم 47میں تیسرے نمبر پر آنیوالے کو کانٹ کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا،فارم 45پر ہمارے 90ووٹوں کو فارم 47میں 9کر دیا گیا،سمبڑیال کے ضمنی الیکشن میں ہم نے ماضی کی نسبت بہتر کارکردگی دکھائی۔88میں ہمارے ساتھ کیا ہوا۔بی بی نے 17ووٹوں کیساتھ اپوزیشن کی۔انہوں نے کہا کہ نظریات کمزور ہو سکتے ہیں ختم نہیں کیے جا سکتے۔پیپلز پارٹی نے ایشوز کی سیاست کی ہے اور سیاسی طور پر ایشوز کا سامنا کرنا ہے،میں بات کرسکتا ہوں،بندوق نہیں اٹھا سکتا،لوگوں کے پاس پسند نا پسند کا اختیار ہے۔میرے پاس نہیں،چیئرمین بلاول بھٹو نے انٹر نیشنل فورم پر پاکستان کا مقدمہ لڑا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں